غیر معمولی انسان
الرسالہ، جنوری ۱۹۹۲، صفحہ ۲۱
جہاں اسکوپ نہ ہو وہاں زیادہ اسکوپ ہوتا ہے۔ جہاں بظاہر مواقع نہ ہوں وہاں اور زیادہ بڑے مواقع کے لیے چھپے ہوئے ہوتے ہیں۔
ایک مسلم نوجوان ہیں، ان کے کچھ رشتہ دار امریکہ میں رہتے ہیں۔ وہ امریکہ گئے۔ وہاں تعلیم حاصل کی۔ دو سال تک امریکہ میں ملازمت بھی کی۔ پھر انہیں خیال آیا کہ اپنے ملک میں آئیں اور یہاں اپنی زندگی کی تعمیر کریں چنانچہ وہ ہندوستان واپس آگئے ۔
ان سے میری ملاقات ہوئی تو انھوں نے کہا کہ میں ہندوستان واپس آکر ذہنی انتشار میں مبتلا ہو گیا ہوں ۔ یہاں جو میرے دوست اور رشتہ دار ہیں، وہ سب کہہ رہے ہیں کہ تم نے بہت نادانی کی کہ تم امریکہ چھوڑ کر ہندوستان آگئے ۔ وہاں تم کو ترقی کے بڑے بڑے مواقع مل سکتے تھے ۔ یہاں تو تمہارے لیے کوئی اسکوپ نہیں ۔
میں نے جواب دیا کہ آپ کے دوست اور رشتہ دار سب الٹی باتیں کر رہے ہیں۔ میں کہتا ہوں کہ ہندوستان میں اسکوپ نہیں، اسی لیے تو یہاں اسکوپ ہے۔ ہندوستان میں آپ کے لیے ترقی کے وہ تمام مواقع ہیں جو امریکہ میں ہیں، بلکہ یہاں آپ امریکہ سے بھی زیادہ بڑی ترقی کر سکتے ہیں ۔ اصل یہ ہے کہ ترقی کا تعلق دو چیزوں سے ہے ۔ ایک خارجی مواقع۔ دوسرے، اندرونی امکانات ۔ خارجی مواقع سے مراد وہ مواقع ہیں جو آپ کے وجود کے باہر خارجی دنیا میں پائے جاتے ہیں۔ اندرونی امکانات سے مراد وہ فطری استعداد ہے جو آپ کے ذہن اور آپ کے جسم کے اندر اللہ تعالیٰ نے رکھ دی ہے ۔ عام طور پر لوگوں کی نگاہ دنیا کے خارجی مواقع پر ہوتی ہے۔ اس لیے وہ کہہ دیتے ہیں کہ فلاں ملک میں مواقع ہیں اور فلاں ملک میں مواقع نہیں ہیں۔ مگر ترقی کے لیے اس سے بھی زیادہ اہمیت ان صلاحیتوں کی ہے جو فطرت سے ہر آدمی کو ملی ہوئی ہیں ۔ کوئی بھی آدمی ان سے خالی نہیں ۔ جب زندگی کی مشکلیں آدمی کو چیلنج کرتی ہیں تو اس کی چھپی ہوئی صلاحیتیں ظاہر ہونے لگتی ہیں ۔ حالات کا جھٹکا انھیں جگا کر متحرک کر دیتا ہے ۔ یہ بیداری کسی انسان کی زندگی میں اس کی ترقی کے لیے بہت زیادہ اہمیت رکھتی ہے ۔ امریکہ میں یہ اسکوپ ہے کہ وہاں خارجی مواقع موجود ہیں۔ ہندوستان میں یہ اسکوپ ہے کہ یہاں چیلنج کی صورت حال پائی جاتی ہے جو آدمی کی فطری صلاحیتوں کو آخری حد تک جگا دیتی ہے ۔ اور پہلے اسکوپ کے مقابلہ میں دوسرا اسکوپ بلاشبہ کہیں زیادہ قیمتی ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of January 1992 All issues