My goal for 1990 is $25 million.
الرسالہ، اپریل ۱۹۹۲، صفحہ ۴۵
اس طرح جاپان کے اندرونی حالات نے اس کو یہ سبق دیا کہ امگر اس کو زندہ رہنا ہے تو اس کو حالات کے مطابق اپنے آپ کو تیار کرنا ہوگا۔ ورنہ وہ تباہ ہو جائے گا۔ دوسری عالمی جنگ (۱۹۱۸- ۱۹۴۲) میں فضائی بمباریوں کے نتیجہ میں پر شہر ٹوکیو کا بیشتر حصہ تباہ ہو گیا۔ اب دوبارہ ٹوکیو کی تعمیر کے منصوبہ کے تحت کی گئی۔ جاپان نے اپنے نا موافق حالات کے خلاف فریاد اور احتجاج کا انداز اختیار نہیں کیا۔ بلکہ غردون کر کے قدیمہ اپنی تعمیر نو کی تدبیر تلاش کی۔ یہ جاپانی کردار کا مخصوص پہلو ہے۔ اور اسی نے جاپان کی ترقی میں اہم حصہ ادا کیا ہے ایک جا پانی مثل جاپانیوں کے مزاج کو بہت خوبی کے ساتھ بیان کرتی ہے۔ اس کا ترجمہ انگریزی میں اس طرح کیا گیا ہے کہ آدمی فتح سے بہت کم سیکھتا ہے گر شکست سے وہ بہت زیادہ سیکھ لیتا ہے: Man learns little from victory, but much from defeat. اس سفر میں میرا جانا اور آنا دونوں جاپان کے راستہ سے ہوا۔ اس دوران مختلف مراحل پر جن لوگوں سے گفتگو ہوئی ان کو تاریخ وار درج کرنے کے بجائے یکجائی طور پر یہاں درج کیا جاتا ہے۔
ایک سیاح سے ملاقات ہوئی۔ وہ پہلی بار جاپان کی سیاحت کے لئے آئے تھے اور اب واپس وطن جارہے تھے۔ میں نے ان سے پوچھا کہ جاپان کے بارے میں اپنا کوئی تجربہ بتائیے۔ انھوں نے کہا کہ آپ ایک ٹیکسی سے سفر کر رہے ہوں اور ٹیکسی ڈرائیور آپ کے بتائے ہوئےپتہ پر پہنچ نہ پا رہا ہو تو وہ ٹیکسی سے اتر کر پبلک بوتھ پر جائے گا اور اپنے پیسہ سے ٹیلیفون کر کے صحیح جگہ کو معلوم کرلے گا اور آپ کو عین دروازے پر لے جاکر اتارے گا ایسا صرف جاپان میں ہوتا ہے:
A cab-driver failing to locate the address you want to reach, rings up from a public booth on his own account to get the exact location and drops you at the very doorstep. This happens only in Japan. اس قسم کے واقعات کا تعلق قومی مزاج سے ہے۔ قوم کی تعمیر کے سلسلہ میں سب
‹ Previous page Next page › Contents of April 1992 All issues