Al-Risala · April 1992 · page 48

But Japan finds itself unprepared for it.

الرسالہ، اپریل ۱۹۹۲، صفحہ ۴۸

رہتی ہیں۔ وہاں وہ شارجہ انڈین اسکول میں پڑھتی ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ ہماری ایک ٹیچر مسز رینوکا ہیں۔ وہ اکثر اسلام اور مسلمانوں پر تنقید کرتی رہتی تھیں۔ مہناز سید نے ان کو انگریزی الرسالہ کے کچھ شمارے پڑھنے کے لئے دئے۔ ان کا ذہن بدل گیا اور اب وہ اسلام کی خوبیوں کا اعتراف کرتی ہیں۔ اسی طرح دوسری ٹیچر مسز بی آسنگھ بھی اسلام پر تنقید کرتی تھیں۔ ان کو بھی انگریزی الرسالہ پڑھایا۔ ان کا ذہن بھی بدل گیا۔

ایک صاحب لکھتے ہیں: میں آپ کے متعلق رسالوں میں بہت کچھ غلط پڑھتا تھا اور اس کی وجہ سے مجھے آپ سے سخت بیزاری تھی۔ لیکن خدا کا یہ ہمیشہ دستور رہا ہے کہ حق بات ظاہر کر دیتا ہے۔ اتفاقاً میں نے آپ کا الرسالہ پڑھا۔ کچھ ہی پڑھا تھا کہ میرا ذہن بدل گیا۔ میں نے سوچا کہ لوگ کتنا زیادہ غلط لکھتے ہیں۔ الرسالہ پڑھنے کے بعد ایسا لگا کہ اب مجھے اس کے علاوہ کوئی اور رسالہ یا پرچہ پڑھنے کا دل ہی نہیں کرتا ہے (محمد ابوبکر - لکھنؤ) ایک صاحب لکھتے ہیں: الرسالہ اپنے گوناگوں اوصاف کی وجہ سے سنجیدہ تعلیم یافتہ طبقہ میں ایک خاص مقام رکھتا ہے۔ میرا ذاتی تاثر ہے کہ الرسالہ سے ہر شخص اپنے ذوق اور فکر کے مطابق خدا حاصل کر سکتا ہے۔ تاہم آخرت کا تصور اور دعوت الی اللہ کا پہلو اس میں نمایاں رہتا ہے (عبد الصمد امینی ، ہزاری باغ)

ایک صاحب لکھتے ہیں: کافی عرصہ سے الرسالہ پڑھ رہا ہوں اور بڑی حد تک اس سے متفق ہوں ۔ ایک ایسا دور بھی تھا جب میں عام نوجوانوں کی طرح جوش کے تحت ملی مسائل کے بارہ میں سوچا کرتا تھا۔ لیکن جب سے الرسالہ ہاتھ لگا ہے میں جوش کے ساتھ ہوش سے بھی کام لینے لگا ہوں (حبیب احمد ایم اے ، نرمل)

ایک صاحب لکھتے ہیں : ۴۴ سال کی عمر میں بہت سی کتابیں پڑھی تھیں۔ مگر جب سے الرسالہ ہاتھ آیا یوں لگا کہ گزرے ہوئے وقت میں جو کتابیں پڑھی تھیں، کوئی عبرت آموز نہ بن سکی۔ سوائے الرسالہ کے کسی کتاب کو پڑھ کر محسوس نہیں ہوا کہ اس کتاب کو ابھی ختم نہیں ہو نا چاہئے تھا (شکیل عبد الرحمن ، مسقط)

ایک نئی کتاب تیار ہو رہی ہے۔ وہ ڈھائی سو صفحات پر مشتمل ہوگی اور اس کا نام "عظمت

‹ Previous page Next page › Contents of April 1992 All issues

Printed page