اسلام کی برکت
الرسالہ، مئی ۱۹۹۲، صفحہ ۱۵
اسلام آدمی کی زندگی کو با معنی زندگی بناتا ہے۔ اسلام کے اندر ہر آدمی کے لیے افادیت ہے۔ اسلام ہر آدمی کی تلاش کا صحیح ترین جواب ہے۔
ڈاکٹر جارودی (Roger Garaudy) فرانس میں ۱۹۱۳ء میں پیدا ہوئے ۔ وہ عیسائی خاندان سے تعلق رکھتے تھے ، ۱۹۳۳ء کے مشہور اقتصادی بحران نے ان کے ذہن پر اثر ڈالا ۔ وہ فرانس کی کمیونسٹ پارٹی میں شامل ہو گئے ، تاہم ان کو ذہنی اطمینان نہ مروجہ مسیحیت میں ملا اور نہ کمیونزم میں۔ بعد کو انھوں نے اسلام کا مطالعہ کیا اور ۱۹۸۲ء میں اسلام قبول کر لیا۔ ڈاکٹر جارودی کو ۱۹۸۶ء میں شاہ فیصل فاؤنڈیشن کے تحت خدمت اسلام کا نصف ایوارڈ دیا گیا۔ اس موقع پر ریاض میں ایک تقریب ہوئی جس میں ڈاکٹر جارودی نے اپنے حالات کے بارہ میں مفصل تقریر کی۔ یہ تقریر انھوں نے فرانسیسی زبان میں کی تھی ۔ اس کا مکمل عربی ترجمہ سعودی اخبار الرياض (۲ رجب ۱۴۰۶ھ، ۱۲ مارچ ۱۹۸۶ء) میں شائع ہوا۔
ڈاکٹر جارودی کا ذہن جب کمیونزم سے ہٹا اور وہ مذہب کی جانب مائل ہوئے تو ابتدا ان کا میلان مسیحیت کی طرف ہوا۔ اس کے بعد انھوں نے باقاعدہ طور پر اسلام قبول کر لیا۔ اسلام میں انھوں نے اپنے پورے ذہنی اطمینان کو پالیا۔ الحاد سے اسلام کی طرف اپنے اس سفر کو بتاتے ہوئے انھوں نے کہا کہ میں نے ایسا اس لیے کیا تا کہ کر کے گارڈ (Kierkegaard) کے الفاظ میں ، اپنی زندگی کو با معنی بنا سکوں (حتی اعطی لحیاتی معنی) زندگی میں معنویت کی تلاش ایک فطری جذبہ ہے ۔ وہ ہر آدمی کے اندر لازمی طور پر اور پیدائشی طور پر پایا جاتا ہے۔ اپنی اس اندرونی تلاش کا جواب پانے کے لیے وہ ہر طرف دوڑتا ہے ۔ مگر دوسری تمام چیزوں میں اس کا جواب یا تو سرے سے موجود نہیں ہے یا اگر ہے تو جزئی طور پر ہے۔ اس لیے دوسری چیزوں میں انسان کو یہ تسکین نہیں ملتی کہ اس نے اپنی تلاش کا صحیح اور کامل جواب پا لیا ہے۔
اس تلاش کا صحیح اور مکمل جواب صرف خدا کے محفوظ دین ــــــــــــ اسلام میں موجود ہے۔ اسلام کی یہ امتیازی صفت اس کی دعوتی کامیابی کی سب سے بڑی ضمانت ہے۔