Al-Risala · May 1992 · page 16

اسلام کی اثر انگیزی

الرسالہ، مئی ۱۹۹۲، صفحہ ۱۶

اسلام کی اثر انگیزی

شیخ محمد بدر الاسلام فضلی بی اے ، بی ٹی (علیگ) ہندوستان سے جاپان گئے ۔ انگریزی دور کی ہندوستانی حکومت نے ان کا تقرر ٹوکیو کے اسکول آف فارن لینگویجز میں کیا تھا ۔ وہ وہاں اردو اور فارسی کے استاد کی حیثیت سے کام کر رہے ۔

مسٹر فضلی دسمبر ۱۹۳۰ میں سمندری جہاز سے جاپان پہنچے ۔ وہ اپریل ۱۹۳۲ تک وہاں مقیم رہے ۔ جاپان کے حالات اور اپنے سفر کی روداد پر انھوں نے اسی زمانہ میں ایک کتاب " سیاحت جاپان " لکھی تھی ۔ یہ کتاب چار سو صفحات پر مشتمل ہے اور ۱۹۳۴ میں انجمن ترقی اردو اورنگ آباد ( دکن ) سے شائع ہوئی تھی ۔ مطبع کا نام کتاب پر جامع برقی پریس دہلی " لکھا ہوا ہے ۔ مصنف نے اس کتاب میں جو واقعات نقل کیے ہیں ، ان میں سے ایک واقعہ یہ ہے کہ انسائیکلوپیڈیا میں اسلام پر مقالہ لکھنے کے لیے ایک جاپانی فاضل نے اسلام کا مطالعہ کیا ۔ اس سے وہ اتنا متاثر ہوا کہ اس نے اسلام قبول کر لیا ۔ یہاں ان کے اپنے الفاظ نقل کیے جاتے ہیں : " جمعہ کے روز نماز کے لیے مسجد گیا ۔ ۵۰ نمازی جمع ہوئے۔ ۔ ہر شخص ہیٹ کے نیچے ایک گول مخمل کی ٹوپی پہن کر آیا تھا ۔ نیچے کی منزل میں اور زینہ پر بہت سی کھونٹیاں دیوار پر لگی ہوئی ہیں ۔ ہیٹ ان پر ٹانگ دی اور گول ٹوپی پہن کر اوپر کے ہال میں جہاں نماز ہوتی ہے ، جمع ہوئے۔ ۔ بعض لوگوں نے نیچے کی منزل میں وضو بھی کیا ۔

نماز کے بعد تمام نمازیوں سے مصافحہ ہوا ۔ یہیں ایک جاپانی صاحب سے بھی تعارف ہوا ۔ یہ بھی نماز میں شریک تھے ۔ ایک روسی مسلمان مسٹر صابر جمیل نے مجھ کو اور جاپانی مسلمان صاحب کو جن کا نام مسٹر سبورو تھا ۔ اسی وقت چائے نوشی کی دعوت دی ۔ صابر صاحب مسجد کے قریب ہی ایک چھوٹے سے خوبصورت مکان میں رہتے ہیں ۔ ان کی اہلیہ محترمہ عائشہ نے مہمانوں کی بڑی خاطر مدارات کی ۔ مسٹر سبورو سے اسلام کے متعلق گفتگو ہوئی ۔ میں نے دریافت کیا کہ اسلام کی کس خوبی نے آپ کو اس طرف مائل کیا ۔ انھوں نے بیان کیا کہ ان سے جاپانی انسائیکلوپیڈیا میں اسلام کے متعلق آرٹیکل لکھنے کے لیے کہا گیا تھا ۔ اس سلسلہ میں انھوں نے اسلام کا مطالعہ کیا ۔ مطالعہ اور تحقیق کے بعد

‹ Previous page Next page › Contents of May 1992 All issues

Printed page