آنے والی صدی
الرسالہ، مئی ۱۹۹۲، صفحہ ۱۹
زندگی کی تشکیل، میں دو چیزوں کا دخل ہے۔ ایک نظام اور دوسرے، نظام کو چلانے والے افراد۔ نظام کے لیے انسانی افراد کی ضرورت ہے اور انسان، افراد کے لیے نظام کی۔ مگر ایک مسئلہ ہر نظام کو درپیش رہتا ہے۔ وہ انسان کی یہ کمزوری کہ جب بھی اس کو اختیار دیا جاتا ہے، وہ اپنی اختیار کے استعمال میں حد پر نہیں ٹھہرتا، وہ حد بندیوں کو توڑ کر اس کے باہر چلا جاتا ہے۔
آزادی، اچھی چیز ہے۔ لیکن آزادی، اسی وقت اچھی ہے جب کہ اس کو محدود دائرہ میں استعمال کیا جائے ۔ مگر انسان کو جب آزادی دی جائے تو وہ اس کو کامل آزادی تک لے جانا چاہتا ہے۔ یہاں پہنچ کر آزادی کی نفی ہو جاتی ہے، اس کے بعد انسانی سماج میں بگاڑ کا پیدا ہونا لازمی ہے۔ امریکہ میں انسان کو آزادی دی گئی۔ مگر اس کے بعد یہ ہوا کہ لوگ حد پر نہیں رکے ۔ ہر آدمی اپنی آزادی کو لا محدود آزادی کے طور پر استعمال کرنے لگا۔ اس کے نتیجہ میں طرح طرح کے سماجی فساد پیدا ہو گئے یہاں تک کہ اسکنر (B. F. Skinner) جیسے مفکرین پیدا ہوئے جنہوں نے اعلان کیا کہ ہم آزادی کا تحمل نہیں کر سکتے (We can't afford freedom) ۔
اس کے مقابلہ میں دوسرا نظام جبر کا نظام ہے جس کو اشتراکی اصطلاح میں ’’مزدور کی ڈکٹیٹر شپ‘‘ کا نام دیا گیا ہے۔ مگر وہ بھی نہایت مہلک ثابت ہوا۔ جن انسانوں کو نظام کو بر قائم کرنے کا اختیار دیا گیا انھوں نے اس کو لوگوں کے اوپر کالے، جبر نافذ کرنے کے لیے استعمال کیا۔ جبر میں جزئی افادیت تھی۔ مگر اپنے حد سے آگے بڑھنے کے بعد اس نے اپنی افادیت کھودی۔ چنانچہ ’’مزدور ڈکٹیٹر شپ‘‘ تاریخ کی بدترین شہنشاہیت کے ہم معنی بن گئی۔
حقیقت یہ ہے کہ آزادی کا نظام ہو یا جبر کا نظام، دونوں کے لیے ایک ایسی مزید آئیڈیالوجی کی ضرورت ہے جو انسانی ارادہ کو کنٹرول کرے، جو انسان کو اپنی جائز حد پر رہنے کے لیے مجبور کر سکے۔ یہ آئیڈیالوجی صرف مذہب فراہم کرتا ہے۔ اب چونکہ دوسرے تمام مذاہب تحریف کی بنا پر ناقابل اعتبار ہو چکے ہیں، اس لیے اب اسلام ہی ایک ایسا مذہب ہے جو اس آئیڈیالوجی کو حاصل کرنے کا واحد ذریعہ ہے ، اب اسلام ہی مذہب کا واحد نمائندہ ہے، اس لیے اب اسلام ہی ہے جو کسی نظام کی اس لازمی ضرورت کو پورا کر سکے۔ اس حقیقت کو سامنے رکھا جائے تو یہ کہنا صحیح ہوگا کہ آنے والا دور پیکس امریکا نہیں ہے بلکہ پیکس اسلامیکا (Pax Islamica) ہے، اگر چہ سطح میں لوگ اس کو نہیں سمجھتے۔