آنے والی صدی
الرسالہ، مئی ۱۹۹۲، صفحہ ۱۸
آنے والی صدی
دوسری عالمی جنگ کے بعد امریکہ نے عالمی سیاست میں جو فوقیت حاصل کی۔ اس کے بعد سمجھا جانے لگا تھا کہ اب امن برطانیہ (Pax Britanica) کا دور ختم ہو گیا، اور امن امریکہ (Pax Americana) کا دور شروع ہو گیا ہے۔ ۱۹۹۰ میں ایک طرف خلیج کی جنگ میں غیر معمولی فتح اور دوسری طرف روس کے سپر پاور کی حیثیت نے خاتمہ سے امریکہ دانشوروں کو اس یقین تک پہنچایا ہے کہ اب انسانی تاریخ امریکی بالادستی کے دور میں داخل ہو گئی ہے۔ اور اکیسویں صدی بلا شبہ امریکی صدی (American century) ثابت ہوگی۔
موجودہ زمانہ میں امریکی مغربی تہذیب کا قائد ہے۔ چنانچہ اس واقعہ کو مغربی تہذیب کی برتری کے ہم معنی سمجھا جارہا ہے۔ ممتاز امریکی دانشور فرانس فو کو یامی (Francis Fukuyame) نے اس سلسلہ میں متعدد آرٹیکل امریکی اور غیر امریکی جرنلوں میں شائع کیے ہیں۔ تین حوالے یہ ہیں : The End of History, The National Interest, Summer 1989 Are We Witnessing the End of History, Sunday Star, September 1989 Are We at the End of History, Fortune, January 1990 ان کا کہنا ہے کہ موجودہ صدی جو اپنے خاتمہ کو پہنچ رہی ہے وہ اقتصادی اور سیاسی آزادی کے اصول کی واضح فتح (unabashed victory of economical and political liberalism)
پر منتج ہوئی ہے۔ ہم غالباً انسانیت کے نظریاتی ارتقاء کے نقطہ کمال کا مشاہدہ کر رہے ہیں۔ اور یہ کہ مغرب کی آزاد جمہوریت اب انسانی حکومت کے آخری نظام کی حیثیت سے ابھر کر سامنے آگئی ہے : We may be witnessing the end point of mankind's ideological evolution and the emergence of western liberal democracy as the final form of human government. اسی قسم کا دعویٰ ۷۵ سال پہلے کمیونسٹ روس نے کیا تھا، اب یہی دعویٰ سرمایہ دار امریکہ کر رہا ہے، مگر اشتراکی ڈکٹیٹر شپ کا جو انجام ہوا، وہی انجام یقینی طور پر مغربی لبرلزم کا بھی ہونے والا ہے۔