21 الہلال، مئی ۱۹۹۲
الرسالہ، مئی ۱۹۹۲، صفحہ ۲۱
جب میرے جیسے آدمی کے یہاں ۱۲ اولاد ہو گئی تو اللہ میاں کے ایک ہی کیوں۔ عوام نے یہ سن کر فوراً تالی بجادی۔ پاوری صاحب نے کچھ جواب دینا چاہا مگر تالیوں کی گونج میں ان کی آواز دب گئی۔ لوگوں نے پادری سے کہا کہ بس اب بات ختم ہو گئی۔ تمہارے پاس مسلمان کی بات کا کوئی جواب نہیں۔ اگلے دن اشتہار چھپ گیا کہ دوہرہ دون میں مناظرہ ہوا۔ اس مناظرہ میں مسلمانوں کی جیت ہوئی اور پادری صاحب بری طرح ہار گئے۔
اسلام ایک محفوظ اور غیر محرف مذہب ہے، اور مسیحیت ایک غیر محفوظ اور محرف مذہب۔ اسی فرق کا یہ کرشمہ تھا کہ ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ پادری کے مقابلہ میں ایک جاہل مسلمان کو فتح حاصل ہوئی۔ کوئی مذہب جب محفوظ حالت میں ہو تو وہ عین فطرت کے مطابق ہوتا ہے۔ انسان کی فطرت ہی اس کو سمجھنے کے لیے کافی ہوتی ہے۔ یہ خصوصیت اس کو انتہائی حد تک طاقت در بنا دیتی ہے۔ یہ فطری طاقت آج صرف اسلام کو حاصل ہے۔ کیوں کہ آج اسلام ہی واحد مذہب ہے جو تحریف اور ملاوٹ سے پاک ہے۔ وہ اپنی اصل صورت میں محفوظ ہے۔ جب کہ دوسرے تمام مذاہب تحریف کے نتیجہ میں اپنی فطری سادگی کو کھو چکے ہیں۔ دوسرے مذاہب کی نمائندگی صرف ان کے علماء ہی کر سکتے ہیں۔ جبکہ اسلام کی نمائندگی ایک عام مسلمان بھی بخوبی طور پر کر سکتا ہے۔
اسلام کی اس خصوصیت کی بنا پر یہ ممکن ہوگیا ہے کہ ایک عام مسلمان بھی اس کا مبلغ بن جائے۔ ایک عام مسلمان بھی بڑے بڑے لوگوں سے مقابلہ کر کے اسلام کی حقانیت ثابت کر سکے ۔ اسلام کی اس صفت نے اسلامی دعوت کی تسخیری قوت کو آخری حد تک بڑھا دیا ہے۔ اس نے اسلام کو ناقابل شکست حد تک فاتح مذہب بنا دیا ہے۔
دوسرے مذاہب میں کسی کو اس مذہب کا مبلغ بنانا ہو تو اس کو خصوصی تربیت دینا ضروری ہوتا ہے۔ ان مذاہب کی تعلیمات اتنی پیچیدہ اور عقل عام سے اتنی ہٹی ہوئی ہیں کہ عام آدمی کے لیے ان کا مبلغ بننا ممکن نہیں۔ عام آدمی صرف ان کا مقلدانہ پرستار بن سکتا ہے وہ ان کا داعی اور مبلغ نہیں بن سکتا۔ مگر اسلام عین عقل عام کے مطابق ہے۔ اس لیے ہر آدمی خود اپنی فطری عقل کے ذریعہ اسلام کا داعی بن سکتا ہے۔ اسلام کا داعی اور مبلغ بننا اتنا ہی آسان ہے جتنا خود اپنی فطرت کی آواز کو لفظوں میں بیان کرنا۔