Al-Risala · May 1992 · page 22

کون سا مذہب

الرسالہ، مئی ۱۹۹۲، صفحہ ۲۲

کون سا مذہب

ڈاکٹر رادھا کرشنن (۱۸۸۸-۱۹۷۵) ہندوستان کے مشہور مصنف اور فلسفی تھے۔ ان کی ایک کتاب وہ ہے جس کا نام مذہب اور کلچر (Religion and Culture) ہے۔ اس کتاب میں انھوں نے دکھایا ہے کہ مذہب انسان کے لیے لازمی طور پر ضروری ہے۔ مذہب کے بغیر انسان زندہ نہیں رہ سکتا۔ اس سلسلہ میں وہ کہتے ہیں کہ سوال مذہب یا بے مذہب کا نہیں بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ کس قسم کا مذہب:

There is no question of religion or no religion, but what kind of religion. ڈاکٹر رادھا کرشنن نے جس قسم کے مذہب کی وکالت کی ہے ، وہ مذہب وہ ہے جو وحدت ادیان پر عقیدہ رکھتا ہو۔ یعنی یہ تصور کہ ایک ہی آفاقی حقیقت ہے جو ہر مذہب میں ظاہری فرق کے ساتھ پائی جاتی ہے۔

یہ نظریہ دراصل جز پر کل کو قیاس کر کے وضع کیا گیا ہے۔ یہ صحیح ہے کہ دو مختلف سچائیوں میں جزئی فرق ہو سکتے ہیں، تاہم اس جزئی فرق کے باوجود دونوں سچائیاں ایک مانی جائیں گی۔ مگر جب فرق کلی نوعیت کا ہو، مثلاً ایک مذہب کہے کہ خدا ہے ، اور دوسرا مذہب کہے کہ مستقل بالذات حیثیت سے خدا کا کوئی وجود نہیں، اس طرح کے فرق جہاں پائے جائیں وہاں کوئی ایک ہی مذہب سچا ہوگا کہ دونوں مذہب۔

مذہب کی ایک قسم وہ ہے جو ذاتی تجربات کو مذہب کی بنیاد بتاتی ہے۔ اس قسم کا مذہب سراسر ناقابل قبول ہے۔ کیوں کہ اصل سوال استناد کا ہے۔ ذاتی تجربہ کی بنیاد پر جو مذہب بنے ، اس کو مستند نہیں کہا جا سکتا، اس لیے وہ قابل قبول بھی نہیں ہو سکتا۔

وہ کون سا مذہب ہے جس کو اختیار کیا جائے ۔ خالص علمی اعتبار سے اس کا جواب یہ ہے کہ وہ مذہب جو ثابت شدہ ہو۔ یعنی وہ مذہب جو تاریخ کے معیار پر مستند ثابت ہو ۔ وہ مذہب جس کا پیغمبر تاریخی پیغمبر ہو۔ جس کی دی ہوئی کتاب اپنی اصل صورت میں محفوظ ہو۔ جو تاریخ کی کسوٹی پر پوری طرح معتبر قرار پاتا ہو۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 1992 All issues

Printed page