نیا دور
الرسالہ، مئی ۱۹۹۲، صفحہ ۲۹
دور قدیم میں اسلام کے علم برداروں نے اسلام کو شرک کے اوپر غالب کیا تھا۔ آج دوبارہ وہ وقت آگیا ہے کہ اسلام کو الحاد کے اوپر غالب اور سر بلند کیا جائے۔ ضرورت صرف یہ ہے کہ اسلام کے حاملین اٹھیں اور اپنے حصہ کا کام کر کے اس تاریخی امکان کو واقعہ بنا دیں۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم پر پہلی وحی ۶۱۰ میں اتری۔ اس کے بعد آپ نے عرب میں اسلام (دین توحید) کی دعوت کا کام شروع کیا۔ اگر آپ چودہ سو سال پیچھے چلے جائیں، اور ابتدائی وقت کے لحاظ سے دیکھیں تو حالات اتنے ناموافق اور اتنے تاریک نظر آئیں گے کہ بظاہر ایسا محسوس ہوگا کہ عرب میں یا بقیہ دنیا میں اسلام کا کوئی مستقبل نہیں ہے۔ لیکن اگر امکان کے اعت بار سے دیکھیے تو آپ پائیں گے کہ عین اسی وقت ایک شاندار مستقبل اسلامی قافلہ کا انتظار کر رہا ہے۔ ایسی ہی کچھ صورت حال موجودہ زمانہ میں بھی ہے۔ جو لوگ چیزوں کو صرف ظاہر حالات (Face value) کے اعتبار سے دیکھنے کے عادی ہیں، انھیں ہر طرف صرف مشکلات کے تاریک بادل چھائے ہوئے نظر آتے ہیں۔ لیکن زیادہ گہرائی کے ساتھ دیکھے تو معلوم ہوگا کہ ان تاریک بادلوں کے پیچھے ایک روشن سورج چھپا ہوا موجود ہے۔
اسلام (توحید کی دعوت آج جس عظیم امکان کے کنارے پہنچ چکی ہے، وہ اتنا قریب ہے کہ اس کی کرنیں پھوٹ کر ظاہر ہو رہی ہیں، اور اس کی جھلک صاف طور پر دکھائی دینے لگی ہے۔ مگر اسلام کے حق میں یہ سارا امکان دعوت کے اعتبار سے پیدا ہوا ہے، نہ کہ ان غیر دعوتی مقامات پر جہاں موجودہ زمانہ کے مسلمان انتہائی بے فائدہ طور پر اپنا سر ٹکرا رہے ہیں۔ موجودہ زمانہ میں تمام قوموں میں مذہب کی طرف واپسی کا رجحان پیدا ہوا ہے۔ یہ ایک عالمی ظاہر ہ ہے۔ مذہبی لٹریچر آج سب سے زیادہ فروخت ہو رہا ہے۔ عبادت خانے جو خالی ہو گئے تھے، ساری دنیا میں دوبارہ بھرے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔
تاہم دوسرے مذاہب محرف مذاہب ہیں۔ تحریف کی بنا پر ان مذاہب میں اور انسانی فطرت میں مطابقت باقی نہیں رہی ہے۔ ان حالات میں یہ کہنا صحیح ہوگا کہ لوگوں کی مذہب کی طرف واپسی حقیقتہ اسلام کی طرف واپسی ہے۔ کیوں کہ صرف اسلام ہی غیر محرف مذہب ہے اور اس بنا پر وہی واحد مذہب ہے جو حقیقی معنوں میں انسان کی طلب کا جواب بن سکتا ہے۔