Al-Risala · May 1992 · page 30

شاہ کلید

الرسالہ، مئی ۱۹۹۲، صفحہ ۳۰

شاہ کلید

مانٹگمری واٹ (W. Montgomery Watt) کی ایک کتاب ہے جس کا نام ہے: اسلام کی عظمتِ رفتہ (The Majesty that was Islam) یہ کتاب اگرچہ اسلام کی تعریف پر ہے۔ مگر اس کا نام بہت زیادہ غلط فہمی پیدا کرنے والا ہے۔ کتاب کے اس نام کو دیکھ کر شعوری یا غیر شعوری طور پر یہ تصور قائم ہوتا ہے کہ اسلام اپنی ساری عظمتوں کے باوجود ماضی کی چیز تھا، وہ مستقبل کی چیز نہیں کتاب کا یہ نام ماضی کے بارے میں فخر اور مستقبل کے بارہ میں مایوسی کا جذبہ پیدا کرتا ہے۔ مصنف نے کتاب کے پانچویں باب میں فلکیات کے عنوان کے تحت لکھا ہے کہ فلکیات کا فن عربوں کے لیے ایک عملی سائنس تھی۔ کیوں کہ ان کے لیے اپنے مذہب کی رو سے یہ ضروری تھا کہ وہ ہر اسلامی شہر سے مکہ کے رخ کو جانیں۔ تاکہ نمازوں کے وقت اپنے چہرہ کا رخ اس کی طرف کر سکیں: Astronomy was a practical science for the Arabs... because they had to know the direction of Mecca from every Islamic city, in order to face in this direction in their prayers (p. 228). یہ ایک چھوٹی سی مثال ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اسلام کے عبادتی اعمال غیر متعلق رسوم نہیں ہیں، بلکہ ان کا رشتہ دوسرے انسانی علوم سے براہِ راست طور پر جڑا ہوا ہے ــــــــ نماز کا تعلق سمتوں کے علم سے ہے۔ اسی طرح روزہ کا تعلق کیلنڈر سے۔ زکوٰۃ کا تعلق علمِ احساب سے۔ حج کا تعلق علمِ جغرافیہ سے، وغیرہ۔

مسلمانوں کے درمیان اسلام اگر حقیقی شکل میں زندہ ہو تو اسی کے ساتھ دوسری تمام چیزیں بھی ان کے درمیان زندہ ہو جائیں گی۔ اسلام کا قیام اپنے آپ دوسری چیزوں کے قیام کا ذریعہ بن جائے گا۔ اسلامی تاریخ کے دور اول میں ایسا ہی پیش آیا۔ موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کے درمیان اسلام اپنی حقیقی صورت میں زندہ نہیں۔ اس لیے دوسری چیزیں بھی ان کے درمیان زندہ نظر نہیں آتیں ـــــــــــ اسلام شاہ کلید (Master Key) ہے، دینی امور کے لیے بھی، اور اسی کے ساتھ ہر قسم کے دنیوی امور کے لیے بھی۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 1992 All issues

Printed page