صداقتِ اسیلام
الرسالہ، مئی ۱۹۹۲، صفحہ ۳۴
صداقتِ اسیلام
مشہور مغربی مورخ فرینکلن بامر (Franklin Baumer) نے موجودہ دور کو پریشانیوں کا دور (Age of anxiety) قرار دیا ہے۔ سائنس کے ظہور کے بعد انیسویں صدی میں یہ سمجھ لیا گیا تھا کہ بہتر زندگی اور اچھے معاشرہ کی تعمیر کے لیے سائنس کافی ہے۔ سائنس کے ذریعہ انسان کو مادی ترقی بھی حاصل ہوگی اور اس کے ذریعہ اخلاقی اور روحانی ترقی بھی۔ مگر سو سال کے تجربہ کے بعد شدید ناکامی ہوئی۔ سائنس نے مادہ کو مشین میں تبدیل کیا ، مگر وہ برے انسان کو اچھا انسان نہ بنا سکی۔ مثال کے طور پر سائنس نے انسان کو جو نئی طاقت دی ، اس کا استعمال انسان نے دو عالمی جنگوں کی صورت میں کیا جس نے انسانی دنیا میں ایسی تباہی برپا کی جس کی مثال ساری انسانی تاریخ میں نہیں ملتی۔
چنانچہ بیسویں صدی میں عام طور پر اس کا اعتراف کر لیا گیا کہ سائنس انسانی معاشرہ کی تعمیر و ترقی کے لیے کافی نہیں۔ آئن سٹائن نے کہا کہ سائنس پلوٹونیم کی فطرت کو بدل سکتی ہے ، مگر سائنس انسان کے دل کی برائی کو دور نہیں کر سکتی :
Science can denature plutonium but it cannot denature the evil in the heart of man. کچھ اور لوگوں نے براہ راست اور متعین صورت میں مذہب کی اہمیت کا اعتراف کیا۔ کارل ینگ نے جدید معاشرہ کے ہزاروں لوگوں کا تجربہ کرنے کے بعد کہا کہ ہم جو کچھ بھگت رہے ہیں اس لیے بھگت رہے ہیں کہ ہم خدا سے دور ہو گئے ہیں :
We continue to suffer because we are alienated from God. موجودہ زمانہ میں جو نئی چیزیں ظہور میں آئی ہیں ان میں سے ایک ذرائع ہیں ، اور دوسرے نظریات۔ یہ ذرائع اپنی ابتدائی صورت میں انسانیت کے لیے بے حد مفید تھے۔ مگر جدید نظریات نے انسانوں میں جو ذہن اور مزاج پیدا کیا وہ صحیح نہ تھا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ مفید چیزیں بھی عملاً تباہی کا سبب بن گئیں۔ آج دنیا کو ایسے نظریہ کی ضرورت ہے جو انسان کے اندر صالح مزاج کی تخلیق کر سکے۔