Al-Risala · May 1992 · page 38

دنیا اسلام کی تلاش میں

الرسالہ، مئی ۱۹۹۲، صفحہ ۳۸

دنیا اسلام کی تلاش میں

ایف ایچ بریڈلے (F.H. Bradley) 1846 میں لندن میں پیدا ہوا، اور 1924 میں آکسفورڈ میں اس کی وفات ہوئی۔ وہ دور جدید کے ممتاز فلسفیوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ بریڈلے نے اپنی کتاب (Essays on Truth and Reality) میں لکھا ہے کہ آج دنیا کو ایک نیا مذاہب (New religion) درکار ہے۔ وہ مذہب جو ہمیں ایسا عقیدہ عطا کرے جو تمام انسانی مفادات کا تعین کرنے والا ہو۔ اور ضروری تناسب کے ساتھ اس کے جواز کی بنیاد ہو۔ اسی کے ساتھ وہ ایسا شعور دے جس سے انسان اس پر پورا اعتماد کر سکے (صفحہ ۴۶۴)

اسی کے ساتھ بریڈلے نے مروجہ مذاہب پر اپنا عدم اطمینان ظاہر کیا۔ اس نے یہ اعلان کیا کہ مذہب کوئی آخری چیز نہیں :

Religion is not a final and ultimate matter. (II/220)

اگر اس حقیقت کو سامنے رکھا جائے کہ ”مذہب“ سے بریڈلے کی مراد موجودہ مذاہب ہیں، تو یہ سمجھنا مشکل نہیں کہ باعتبار حقیقت ”نئے مذہب“ سے اس کی کیا مراد ہے۔ باعتبار حقیقت اس سے مراد غیر محرف مذہب ہے۔ مذہب کے نام سے وہ صرف رائج الوقت مذہبوں کو جانتا ہے، اگر وہ مذہب کا تحریف اور آمیزش سے پاک ایڈیشن دیکھ لیتا تو ”نئے مذہب“ کے بجائے وہ غیر محرف مذہب کا لفظ استعمال کرتا۔

موجودہ زمانہ کے انسان کا مطالعہ کیجئے تو وہ عجیب تضاد میں مبتلا نظر آئے گا۔ ایک طرف وہ مذہب کی ضرورت کا اقرار کرے گا۔ اسی کے ساتھ وہ موجودہ مذاہب سے اپنی بے اعتمادی ظاہر کرے گا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ انسان نفسیاتی اعتبار سے مذہب جیسی ایک چیز کی ضرورت محسوس کرتا ہے۔ مگر جب وہ موجودہ مذاہب کو دیکھتا ہے تو وہ اس کو اس کی نفسیاتی طلب کا جواب نظر نہیں آتے۔

اس پیچیدگی کا سبب مذاہب کی تحریف ہے۔ آج کے انسان کو محرف مذہب اپنے نفسیاتی تقاضے کے مطابق نظر نہیں آتے، لیکن اگر اس کے سامنے مذہب کا غیر محرف نسخہ رکھ دیا جائے

‹ Previous page Next page › Contents of May 1992 All issues

Printed page