تاریخی تائید
الرسالہ، مئی ۱۹۹۲، صفحہ ۳۷
لاکھوں جانیں اور بے شمار دولت ان مہموں میں قربان کر دی گئی۔ اور جب سب کچھ ہو چکا تو یروشلم بدستور "بد دینوں "کے قبضہ میں پڑا ہوا تھا۔
مسٹر ولفر یڈ بلنٹ (Wilfred Blunt) نے اپنے ایک مقالہ (ٹائم لندن ، ۲ اپریل ۱۹۰۶) میں اسلام کا ذکر کرتے ہوئے حسب ذیل الفاظ لکھے ہیں :
شاید پوری انسانی تاریخ میں اس سے زیادہ تعجب خیز واقعہ اور کوئی نہیں ہے جتنا کہ انتہائی وسعت اور تیز رفتاری کے ساتھ اسلام کا پھیلنا۔
دین اسلام کو جو قوت اور وسعت حاصل ہوئی، اسی کی وجہ سے یہ ممکن ہوا کہ اسلام کی حفاظت اس عالم اسباب میں ممکن ہو جائے۔ اس سے پہلے جو آسمانی مذاہب آئے وہ سب ضائع ہوتے رہے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہوئی کہ ان پیغمبروں کو ماننے والے تھوڑے تھے ۔ ان کے مخالفین تعداد میں بھی زیادہ تھے اور ہر قسم کی قدرت و طاقت پر بھی انھیں کا قبضہ تھا۔ ان مخالفین نے سابق مذاہب کو ان کی اصل صورت میں باقی رہنے نہیں دیا۔ انھوں نے ان کتابوں میں اپنی منشا کے مطابق تحریف کر دی ۔ اسلام کی پشت پر جو طاقت ور حکومت قائم ہوئی وہ اس بات کی ضمانت بن گئی کہ کوئی اس کو ضائع نہ کر سکے ۔ کوئی اس میں انسانی کلام کی آمیزش نہ کر سکے ۔ اسلام کے ساتھ طاقت کو جمع کرنے اور اس کو ہمیشہ کے لیے محفوظ کر دینے سے اور بہت سے فائدے حاصل ہوئے ۔ اس کی وجہ سے وہ تمام خطرات اور اندیشے ختم ہو گئے جو دشمنوں کی طرف سے دین خداوندی کو پیش آتے تھے۔ قرآن کے بعد کے زمانہ میں توحید پرستوں کے لیے یہ ممکن ہو گیا ہے کہ اگر وہ خدا کے فرماں بر دار بنے رہیں تو یہ فرماں برداری بذاتِ خود ان کی کامل حفاظت کی ضمانت بن جائے گی۔ کسی دشمن سے انھیں کوئی نقصان پہنچنے کا اندیشہ نہیں۔