نظریاتی برتری
الرسالہ، مئی ۱۹۹۲، صفحہ ۴۱
نہیں ہوئے تھے۔ وہ ابھی مستحکم اور تسلیم شدہ نظریات نہیں بنے تھے۔ اس وقت ابھی قدیم بادشاہی دور کی روایات باقی تھیں ۔ اس بنا پر قتال کی نوبت آگئی۔
اس وقت امریکہ میں اگر کوئی گاندھی جیسا اہنساوادی لیڈر پیدا ہوتا تو وہ کامیاب نہیں ہو سکتا تھا ۔ اہنسا کی بنیاد پر تحریک چلا کر کامیاب ہونے کے لیے زمانہ کی مساعدت کی ضرورت ہے۔ اور اس قسم کی زمانی مساعدت اس وقت تک کسی کو حاصل نہ تھی۔
مگر بیسویں صدی کے نصف اول میں جب گاندھی اٹھے تو آزادی اور ڈیمو کریسی کے نظریات مسلم سیاسی نظریات بن چکے تھے ۔ چنانچہ انہیں زمانہ کی کامل مساعدت حاصل ہوئی اور وہ عدم تشدد کی بنیاد پر تحریک چلا کر برطانیہ سے آزادی حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے۔
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی اور آپ کے ارشادات میں خود بھی اس کے اشارے موجود ہیں کہ اسلام کی ابدی تحریک کو دو مختلف دوروں سے سابقہ آئے گا۔ دور اول کا اشارہ قرآن میں اس طرح موجود ہے کہ اس میں ظالموں سے دفاعی جنگ لڑنے کی ہدایت کی گئی ہے ( اذن للذین یقاتلون بانهم ظلموا) چنانچہ اس ہدایت کے مطابق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے زمانہ کے جارح اور ظالم عناصر سے دفاعی جنگ کی۔ دوسرے دور کا اشارہ ہم کو حدیث میں ملتا ہے۔ صحیح مسلم (کتاب الفتن واشراط الساعة) میں حضرت ابو ہریرہؓ کی یہ روایت نقل کی گئی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بعد کے زمانہ میں اہل ایمان کی ایک تعداد غزوہ کرے گی ۔ مگر وہ نہ ہتھیار سے لڑیں گے اور نہ تیر ماریں گے۔ وہ صرف لا الہ الا اللہ کہیں گے اور قلعہ کی دیواریں گر جائیں گی (فلم يقاتلوا بسلاح ولم يرموا بسهم، قالوا لا الہ الا اللہ واللہ اکبر فیسقط احد جانبیہا۔ - ثم يقولون الثانية لا اله الا الله والله أكبر فيسقط جانبها الآخر - ثم يقولون الثالثة لا اله الا الله والله أكبر فيفرج لهم فيدخلونها فيغنمون)
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ دور آخر میں عالمی حالات میں ایسی تبدیلیاں پیدا ہوں گی کہ افکار ونظریات اسلحہ کے قائم مقام بن جائیں گے۔ اس فکری دور میں اہل اسلام کے لیے ممکن ہو جائے گا کہ وہ اسلام کی فکری طاقت اور اس کی نظریاتی برتری کو لے کر اٹھیں اور محض اس کے ذریعہ سے دوسری قوموں پر کامیابی حاصل کر لیں ۔