دینِ فطرت
الرسالہ، مئی ۱۹۹۲، صفحہ ۴۲
دینِ فطرت
کراچی سے ایک انگریزی ہفت روزہ یقین انٹرنیشنل کے نام سے نکلتا ہے۔ اس کے شمارہ ۲۲ اگست ۱۹۹۱ کے ایک مضمون کا عنوان ہے : میں نے کیوں اسلام قبول کیا (Why did I embrace Islam) یہ ایک نو مسلم مسٹر چیمپین (Darly Champion) کی کہانی ہے۔ وہ ساوتھ آسٹریلیا کے شہر ایڈیلیڈ (Adelaide) میں ایک مسیحی خاندان میں پیدا ہوئے۔ بچپن سے ان کے اندر تلاشِ حق کا جذبہ تھا۔ ۱۲ سال کی عمر میں اسکول پارٹی کے ساتھ ایک بار وہ ایک مقامی مسجد میں گئے۔ یہ مسجد سو سال پہلے ان افغانیوں نے بنائی تھی جو ساربان (camel driver) کے طور پر یہاں لائے گئے تھے۔ اس مسجد کی سادگی کو دیکھ کر وہ بہت متاثر ہوئے اور ان کے اندر یہ شوق پیدا ہوا کہ مسلمانوں کے مذہب کا مطالعہ کریں۔
بعد کو وہ میڈیا انڈسٹری میں داخل ہو گئے۔ اس سلسلے میں انہیں سڈنی آنے کا اتفاق ہوا۔ یہاں ان کی ملاقات کچھ مسلمانوں سے ہوئی۔ ان سے انھوں نے قرآن کا انگریزی ترجمہ حاصل کر کے پڑھا۔ مزید مطالعہ کے بعد وہ یکم جون ۱۹۸۸ کو سڈنی کی ایک مسجد میں گئے اور کلمہ شہادت ادا کر کے اسلام قبول کر لیا۔ آسٹریلیا میں ڈھائی لاکھ (250,000) مسلمان ہیں۔ ان میں تقریباً دو سو نو مسلم ہیں۔
موصوف نے اسلام قبول کرنے کے بعد اپنا نام قمر القلب رکھا ہے۔ ان سے پوچھا گیا کہ آپ نے کیوں اسلام قبول کیا۔ انھوں نے کہا کہ میں نے اسلام قبول نہیں کیا بلکہ میں نے اسلام کو از سر نو دریافت کیا۔ میرے بارہ میں آپ نے جو کچھ سنا ہے وہ تبدیلیٔ مذہب کا قصہ نہیں ہے بلکہ وہ اس مذہب کو دوبارہ دریافت کرنے کا قصہ ہے جو میری فطرت میں پہلے سے موجود تھا :
I didn't embrace Islam, I re-discovered Islam in myself. What you have heard is not a tale of conversion, but a story of rediscovery of my natural self embodied in Islam. اسلام دینِ فطرت ہے۔ وہ ہر آدمی کا اپنا مذہب ہے۔ اسلام کو قابلِ قبول بنانے کے لیے صرف اتنی بات کافی ہے کہ لوگوں سے معتدل تعلقات قائم کیے جائیں اور اسلام کے مثبت پیغام سے انہیں باخبر کر دیا جائے۔ اس کے بعد وہ اپنے آپ کھنچ کر اسلام کی طرف آ جائیں گے۔