I don’t know what the hell to do with it.
الرسالہ، مئی ۱۹۹۲، صفحہ ۴۷
سرمایہ دارانہ نظام میں نفع پر ٹیکس کا اصول ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سرمایہ دارانہ نظام کے تحت جس شخص کے پاس دولت ایک بار آجائے وہ مسلسل بڑھتی رہتی ہے۔ اور اس کے نتیجہ میں دولت کے ارتکاز (Concentration of Wealth) کی خرابی پیدا ہوتی ہے۔ یہ خرابی موجودہ سرمایہ دارانہ ممالک میں آخری حد تک آچکی ہے۔
پوری دولت پر سال بہ سال ٹیکس لگانا ایک اسلامی تصور ہے۔ یہ عین وہی چیز ہے جس کو شریعت اسلامی میں زکوٰۃ کہا گیا ہے۔ مغربی ممالک میں سرمایہ دارانہ نظام کی خرابیوں نئے وہاں کے سنجیدہ لوگوں کو کسی نے معاشی اصول کا متلاشی بنا دیا ہے۔ حتیٰ کہ اب وہ زکوٰۃ کا نام لیے بغیر زکوٰۃ کے اصول کی اہمیت کو تسلیم کرنے لگے ہیں۔
آج وہ بہترین وقت آگیا ہے جب کہ مغربی ملکوں کے سامنے اسلام کے معاشی اصولوں کو پیش کیا جائے اور وہ اس کو موجودہ سرمایہ داری کا نعم البدل سمجھ کر اسے قبول کرلیں، اور اسی کے ساتھ پورے اسلام کو بھی۔
آج کی دنیا ایک نئے دور کے آغاز کے کنارے کھڑی ہے۔ یہ وہی دور ہے جس کا متعین نام " اسلامی نظام ہے"۔ تاہم دنیا کو اس طرف لانے میں سب سے بڑی رکاوٹ صرف ایک ہے۔ اور وہ موجودہ زمانہ کے مسلمان ہیں۔ موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کا سب سے بڑا جرم یہ ہے کہ انھوں نے غیر مسلم اقوام سے اپنے چھوٹے قومی مسائل کے لیے جھوٹی لڑائی چھیڑ رکھی ہے۔ اس لڑائی سے انھیں کچھ بھی حاصل نہیں ہورہا ہے۔ دوسری طرف یہ عظیم نقصان ہے کہ ان کے ان قومی جھگڑوں کی وجہ سے مسلمانوں اور غیر مسلموں کے درمیان ناقابل بیان تلخی پیدا ہو گئی ہے۔ اس بنا پر وہ اسلام کے بارے میں سنجیدہ غور وفکر کے قابل نہیں رہے ہیں۔ اگر مسلمان صرف اتنا کریں کہ وہ کچھ نہ کریں یعنی دوسری قوموں سے قومی اور مادی جھگڑے ختم کردیں تو اسلام خود اپنی طاقت سے پھیلنے لگے گا، بغیر اس کے کہ اس کو پھیلانے کی براہ راست جدوجہد کی گئی ہو ۔
اسلام کے عقائد عین فطری تقاضے کے مطابق ہیں۔ اسی طرح اسلام کا عملی نظام بھی فطرت کے اصولوں پر قائم ہے۔ اسلام کو اہل عالم کی نظر میں قابل قبول بنانے کے لیے صرف اتنا کافی ہے کہ اسلام کو سادہ اور بے آمیز شکل میں لوگوں کے سامنے پیش کر دیا جائے۔