Al-Risala · May 1992 · page 50

دنیا انتظار میں ہے

الرسالہ، مئی ۱۹۹۲، صفحہ ۵۰

اسلام کی مذکورہ حیثیت اتنی واضح ہے کہ غیر مسلم مفکرین اور مورخین بھی اس کا اعتراف کرنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ تاہم اس کو موجودہ زمانہ میں واقعہ بنانے کی محنت ابھی باقی ہے۔ آرنلڈ ٹوائن بی (۱۸۸۹ء ۔ ۱۹۷۵ء) کی مذکورہ کتاب پہلی بار ۱۹۴۸ء میں چھپی۔ گویا یورپ کے اس ممتاز مورخ نے یہ بات بیسویں صدی کے وسط میں کہی تھی۔ اب بیسویں صدی ختم ہورہی ہے۔ تقریباً ۵۰ سال گزر گئے، مگر مسلمان اب تک اس پکار کے لئے نہیں اٹھے۔ البتہ اسی مدت میں سیاسی ہنگاموں، قومی جھگڑوں اور گولی اور بم کے دھماکوں کے لئے وہ بار بار نہایت جوش وخروش کے ساتھ اٹھتے رہے ہیں۔

یہ بلاشبہ ایک ناقابلِ معافی جرم ہے۔ اور موجودہ زمانہ کے تمام مسلم رہنما اور دانش ور کسی ایک یا دوسری صورت میں یہی جرم کر رہے ہیں۔ دنیا ان سے امن مانگ رہی ہے اور وہ اس کو جنگ دے رہے ہیں۔ دنیا رحمت کی طالب ہے اور وہ اس کو مصیبت پیش کر رہے ہیں۔ دنیا محبت کے انتظار میں ہے اور وہ اس کو نفرت کی خوراک دینا چاہتے ہیں۔

موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کو دوسری قوموں سے چوٹ پہنچی۔ اس چوٹ کو وہ سہہ نہ سکے۔ وہ رد عمل میں مبتلا ہو کر ان کے خلاف صف آرا ہو گئے۔ مگر مسلمانوں کو جاننا چاہئے کہ اس چوٹ کو سہنا ہی دعوت الی اللہ کی قیمت ہے۔ جو لوگ مدعو کی زیادتیوں پر صبر نہ کر سکیں وہ کبھی دعوت کا کام نہیں کر سکتے۔ ایسے لوگ اگر دعوت اور داعی کا نام لیتے ہیں تو یہ بات ان کے جرم کے خانہ میں لکھی جانے والی ہے نہ کہ انعام کے خانہ میں۔ جن لوگوں نے دعوت کی قیمت ہی ادا نہ کی ہو وہ دعوت کا انعام آخر کس طرح پا سکتے ہیں۔

جیسا کہ عرض کیا گیا، ٹوائن بی (Arnold J. Toynbee) نے اپنی کتاب تہذیب کی آزمائش (Civilization on Trial) میں لکھا ہے کہ جدید دنیا، اپنی تمام مادی ترقیوں کے باوجود دو سنگین برائیوں میں مبتلا ہے جن سے چھٹکارا پانے کی کوئی صورت اسے نظر نہیں آتی۔ یہ دونوں برائیاں ، شراب اور نسلی امتیاز ہیں۔ مگر اسلام کے پاس اس کا حل موجود ہے اور اسلام نے عملاً ان برائیوں کا خاتمہ کر کے اس کو تاریخی طور پر ثابت کر دیا ہے۔ آج کی بہت بڑی ضرورت ہے کہ دنیا کو اسلام کے اس روشن پہلو سے واقف کرایا جائے۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 1992 All issues

Printed page