اسلامی حل
الرسالہ، جون ۱۹۹۲، صفحہ ۲۵
تاریخ میں کبھی عملی ادویت داد اور مساوات (equality) کو بالفعل انسانی سماج میں قائم کیا ہے تو وہ اسلام اور صرف اسلام ہے۔ سوامی ویویکانند کی یہ تاریخی تحریر ہر درد مند ہندوستانی کے لیے بے حد قابلِ غور ہے۔
سوامی ویویکانند نے مذکورہ خط میں اپنا یہ قطعی خیال ظاہر کیا ہے کہ پریکٹیکل اسلام کی مدد کے بغیر ویدانت کے نظریات بالکل بے قیمت ہیں۔ وسیع انسانیت کے لیے ان نظریات کا کوئی فائدہ نہیں۔ سوامی ویویکانند نے مزید لکھا ہے کہ ہمارے مادرِ وطن کے لیے واحد امید یہ ہے کہ یہاں دونوں مذہبوں ہندوازم اور اسلام کا میل ہو سکے مستقبل کا معیاری ہندوستان اس طرح وجود میں آسکتا ہے کہ یہاں ویدانت برین کے ساتھ اسلام باڈی کو شامل کیا جائے اور دونوں کی مدد سے سماج کی تشکیل کی جائے : Letters of Swami Vivekananda, Calcutta, pp. 379-80 میں کہوں گا کہ خرابیاں دو قسم کی ہوتی ہیں۔ ایک عملی، اور دوسری نظریاتی۔ اگر کوئی جزئی نوعیت کی عملی خرابی ہو تو ایسی حالت میں جوڑ اور پیوند کار آمد ہو سکتا ہے۔ مگر جہاں مسئلہ فکری اور نظریاتی ہو، وہاں اس قسم کا جوڑ کا طریقہ کار آمد نہیں۔ جو عملی خرابی کسی فکری خامی کا نتیجہ ہو، اس کو فکری خامی کی اصلاح کے بغیر درست نہیں کہا جا سکتا۔
ہندوازم میں ذات پات کا نظام صرف ایک عملی خرابی کی بات نہیں، وہ عین ہند و فکر اور ہند و فلسفہ کے نتیجہ میں پیدا ہوا ہے۔ ایسی حالت میں خود اس کے فلسفہ پر نظر ثانی کرنی پڑے گی۔ سادہ طور پر صرف عملی اصلاح کی کوشش اس مسئلہ کو حل کرنے کے لیے کافی نہیں ہوسکتی۔ ایک خبر میں بتایا گیا ہے کہ اپر کاسٹ کے ہندوؤں نے ایک پولیس کو توال امبا داس ساڈ نے (۳۰ سال) کو پتھروں اور لاٹھیوں سے مار مار کر ہلاک کر دیا۔ یہ واقعہ پر بھنی کے ایک گاؤں میں ١٦ اگست ١٩٩١ کو ہوا۔ امبا داس ساڈ نے کا قصور یہ تھا کہ وہ لور کاسٹ سے تعلق رکھتا تھا اور بارش سے بچنے کے لیے مقامی ہنومان مندر کی سیڑھیوں پر چڑھ گیا تھا (ٹائمس آف انڈیا ۲۹ اگست ١٩٩١) جو لوگ نچلے طبقہ کے خلاف اس قسم کا وحشیانہ سلوک کرتے ہیں وہ اپنے اُس یقین کے تحت کرتے ہیں جو اپنے مذہبی عقیدہ کی رو سے انہیں حاصل ہے۔ اس لیے جب تک مذہبی عقیدہ کی اصلاح نہ ہو اس برائی کی اصلاح نہیں ہوسکتی۔ اور یہ مقصد صرف عقیدہ توحید کے ذریعہ حاصل کیا جا سکتا ہے
‹ Previous page Next page › Contents of June 1992 All issues