The religion is full of possibilities.
الرسالہ، جون ۱۹۹۲، صفحہ ۲۸
شرح تقریباً ۵ فی صد تھی۔ جب کہ مسلم آبادی میں اضافہ کی شرح ۲۷ فی صد تک پہنچ گئی۔ سوویت یونین اگر باقی رہتا تو عنقریب سوویت فوج میں ہر تین فوجی میں سے ایک مسلمان ہوتا۔ بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ کرغیز یہ کی راجدھانی اوش (Osh) کو دوسرا مکہ کہا جاتا ہے۔ آذر بائیجان میں شیعوں کی اکثریت ہے۔ مگر مجموعی طور پر اس علاقہ کے مسلمان زیادہ ترسنی ہیں ۔
وسط ایشیا کی ان آزاد مسلم ریاستوں کی واحد کمی یہ ہے کہ وہ سمندری ساحل سے محروم (Land locked) ہیں۔ یہ کمی پڑوسی مسلم ملکوں (ترکی، ایران، پاکستان) کے ذریعہ پوری ہو سکتی ہے۔ چنانچہ ترکی سب سے پہلا ملک تھا جس نے الما آتا (Alma Ata) کے فیصلہ کے بعد ان ریاستوں کو آزاد ریاست کی حیثیت سے تسلیم کیا۔ ایران نے اپنی سرحد تک ریلوے لائن بچھانے میں مدد دینے کی پیش کش کی ہے۔ پاکستان نے فیاضی کا مظاہرہ کرتے ہوئے افغانستان کے راستہ سے پاکستان کی بندر گاہوں تک خشک راستہ (Land route) دینا منظور کیا ہے ۔ ان ریاستوں کے لیے ترکی کے راستہ سے میڈی ٹرینین تک پہنچنا بہت آسان ہے۔
ایک مبصر کے الفاظ میں، یہ علاقہ امکانات سے بھرا ہوا ہے :
The religion is full of possibilities.
ازبکستان کپاس کی پیداوار کے لیے مشہور ہے۔ قازقستان میں تیل کے ذخائر ہیں۔ تاجکستان زراعت کے لیے بہت موزوں ہے۔ ترکمانستان میں کپاس کی پیداوار کے وسیع امکانات ہیں۔ کرغیز یہ زراعت کے وسائل سے مالامال ہے۔ آذر بائیجان میں کثیر تعداد میں تیل کے ذخائر پائے جاتے ہیں۔ ایک مبصر نے کہا ہے کہ اشتراکیت کی موت کے بعد یہ امید کرنا بالکل فطری ہے کہ اس خطہ میں اسلامی نظریہ کو قائم کر نے کا رجحان ابھرے گا :
It would be natural to expect that with the death of communism there would be a trend towards establishment of Islamic ideology in the six republics. حقیقت یہ ہے کہ سابق سوویت یونین کے زیر اقتدار ان مسلم ریاستوں کے آزاد ہونے کے بعد، جغرافی نقشہ پر ایک عظیم مسلم بلاک وجود میں آگیا ہے۔ اگر یہ پورا بلاک متحد ہو جائے تو قریبی مستقبل میں بلاشبہ اسلام دنیا کی سب سے بڑی طاقت بن جائے گا۔
‹ Previous page Next page › Contents of June 1992 All issues