Al-Risala · June 1992 · page 27

وسط ایشیا

الرسالہ، جون ۱۹۹۲، صفحہ ۲۷

اشتراکى صبح نہ صرف سمر قند کے لیے بلکہ پورے سوویت یونین کے لیے صرف اندھیرا ثابت ہوئی۔ ۱۹۹۱ میں سوویت یونین اپنی بدترین کمزوریوں کا شکار ہو کر ٹوٹا تو اسی کے ساتھ نہ صرف سمرقند بلکہ وسط ایشیا کی نصف درجن مسلم ریاستیں (آذربائیجان، قازقستان، کرغیزیہ، تا جکستان ترکمانستان، ازبکستان) بھی اچانک آزاد ہو گئیں۔ ۱۹۹۱ سے پہلے جہاں سرخ پرچم لہرارہا تھا وہاں اب ایک وسیع علاقہ میں ایک طاقت ور مسلم بلاک وجود میں آگیا ہے۔

سوویت یونین کے غلبہ کے زمانہ میں حکومت نے ہر طرح اس علاقہ میں روسی زبان کو رائج کرنے (Cultural supremacy) کی کوشش کی تھی۔ سرکاری طور پر روسی زبان کو ثقافتی برتری دینے کی تمام تدبیریں کی گئیں۔ مگر یہ تدبیریں ناکام رہیں۔ مجھے اپنے سفر روس (جولائی ۱۹۹۰) میں یہ دیکھ کر حیرت ہوئی کہ یہاں کے مسلمان روسی کے ساتھ ترکی اور فارسی زبانیں بھی جانتے ہیں اور آپس میں ان زبانوں کو بولنے کی کوشش کرتے ہیں۔

کمیونسٹ قبضہ کے بعد روسی تہذیب کو پورے علاقہ میں غالب کرنے کی کوشش کی گئی۔ اس کوشش کو عام طور پر سلاونائزیشن (Slavonisation) کہا جاتا ہے۔ اس منصوبہ کے تحت مسلمانوں کے اسلامی نام بدلے گئے۔ مثلاً نیاز کو نیازوف، نظر کو نظر بائیوف سلطان کو سلطانوف وغیرہ۔ سنٹرل ایشیا کے ماہر ڈاکٹر ڈینیل پائپس (Daniel Pipes) نے لکھا ہے کہ روسی سیاست اور روسی کلچر کی اس توسیع کی بنا پر مغربی علماء وسط ایشیا کو یورپ کی آخری بڑی کالونی (Last great colony) کہنے لگے تھے۔

لندن اور قاہرہ کے درمیان جو فاصلہ ہے وہی فاصلہ ماسکو اور تاشقند کے درمیان ہے۔ تاہم روسی حکمران ۱۵۵۲ سے ہی اس علاقہ میں سیاسی مداخلت کرنے لگے تھے۔ ۱۹۱۷ میں اشتراکی انقلاب کے بعد یہ تدخل زیادہ بڑھا۔ یہاں تک کہ ۱۹۲۸ کے بعد یہاں حدیدی نظم (Iron discipline) قائم کر دیا گیا۔

اعداد و شمار کے مطابق، ۱۹۳۹ میں پورے سوویت یونین میں مسلم آبادی کا تناسب فی صد نے کچھ زیادہ (Per cent 8.7) تھا۔ اس تعداد میں تیزی سے اضافہ ہوتا رہا۔ ۱۹۹۰ میں مسلمانوں کی تعداد ۱۹ فی صد سے زیادہ (Per cent 19.9) ہو گئی۔ اس مدت میں غیر مسلم آبادی میں اضافہ کی

‹ Previous page Next page › Contents of June 1992 All issues

Printed page