فطرت کی آواز
الرسالہ، جون ۱۹۹۲، صفحہ ۳۰
یہاں سنگاپور کے ایک صاحب سے ملاقات ہوئی۔ وہ بزنس منیجر تھے۔ میں نے پوچھا کہ آپ جاپان کس لئے آئے؟ انھوں نے کہا کہ صرف سیکھنے کے لئے۔ میں نے دوبارہ پوچھا کہ جاپان کی کس بات نے آپ کو اتنا متاثر کیا کہ آپ صرف سیکھنے کے لئے یہاں آگئے۔ انھوں نے کہا کہ میں جاپان کی صنعتی ترقی کے بارہ میں بہت کچھ سنتا اور پڑھتا تھا۔ مگر ایک واقعہ میں نے پڑھا۔ اس نے مجھے تڑپا دیا اور میں نے فیصلہ کر لیا کہ مجھ کو جاپان جا کر وہاں سے کچھ حاصل کرنا ہے۔ میں نے پوچھا کہ وہ واقعہ کیا تھا۔ انھوں نے اپنا بریف کیس کھولا اور ایک انگریزی میگزین نکالا۔ اس میں حسب ذیل واقعہ چھپا ہوا تھا:
سویڈن کے ایک ماہر کا قصہ بتایا جاتا ہے۔ وہ جاپان گیا تاکہ انتظام میں کارکنوں کی شرکت کا مطالعہ کرے ۔ ایک کارخانہ میں وہ ایک کارکن سے بات کر رہا تھا۔ وہ اس وقت بہت متاثر ہوا جب اس نے دیکھا کہ اس کے ایک سوال پر جاپانی کارکن بے اختیار رو پڑا۔ جب اس کو کارکن کی طرف سے اپنے سوال کا جواب نہیں ملا تو اس نے سپر وائزر سے اس کی بابت پوچھا۔ سپر وائزر نے کہا کہ جو کچھ آپ نے اس سے کہا ہے وہ سب مجھے بتائیے۔ پورا قصہ سننے کے بعد سپر وائزر نے کہا کہ اصل بات یہ ہے کہ جب آپ نے کارکن کو بتایا کہ تمہاری کمپنی آجکل بر آمدی فرمائشوں کی تعمیل پہلے کی طرح نہیں کر رہی ہے تو وہ سخت پریشان ہو گیا۔ اس نے کہا کہ جاپانی کارکن کو اس کا بہت زیادہ خیال رہتا ہے کہ اگر بر آمد گھٹ گئی تو اس سے
‹ Previous page Next page › Contents of June 1992 All issues