فطرت کی آواز
الرسالہ، جون ۱۹۹۲، صفحہ ۳۱
پوری قوم کا نقصان ہوگا۔ اس کے خیال کے مطابق اس کو جاپانی کار کردگی کا معیار گھٹنے سے تعبیر کیا جائے گا۔
اس واقعہ کو پڑھنے کے بعد میں نے سوچا کہ جاپان کا ایک انسان اپنی قوم کے بارہ میں اتنا حساس ہے کہ وہ برداشت نہیں کرتا کہ اس کی کسی کوتاہی سے اس کی قوم پر حرف آئے۔ مگر موجودہ مسلمان اپنے دین کے بارے میں اس طرح حساس نہیں۔ وہ مسلسل غلطیاں اور نادانیاں کر رہے ہیں۔ مگر یہ احساس ان کو نہیں پڑتا کہ اس کی وجہ سے ان کا دین دوسری قوموں کی نظر میں بد نام ہو جائے گا۔
مجھے اپنے بچپن کے زمانہ کی بات یاد ہے۔ یہ دوسری عالمی جنگ سے پہلے کا زمانہ تھا۔ اس وقت ”میڈ ان جاپان“ کے معنی ہوتے تھے معمولی اور کمزور چیز۔ اس زمانہ میں عام طور پر کھلونے وغیرہ جاپان سے آتے تھے اور سستی قیمت پر بازار میں بکتے تھے۔ یہاں میں یہ جاننا چاہتا تھا کہ جاپان اپنے قدیم دور سے جدید دور تک کیسے پہنچا جب کہ ماضی کے برعکس ”میڈ ان جاپان“ کا لفظ معیاری مصنوعات کا عنوان بن گیا ہے۔
بعض جاپانیوں سے بات کرنے کے بعد ایک بالکل نئی چیز میرے علم میں آئی۔ وہ تعلیم کے سال (education years) کا لفظ تھا۔ معلوم ہوا کہ دوسری عالمی جنگ کے بعد جاپان میں تعمیر شعور کی ایک مستقل تحریک چل پڑی اور اس نے قومی تحریک (national movement) کی صورت اختیار کر لی۔ اس تحریک کا مقصد تصور (outlook) کو بدلنا تھا۔
تعلیم کے سال (ایجوکیشن ایئرس) کا مرحلہ (fifties & sixties (خمسینات اور ستینات) کے دوران تقریباً ۱۵ سال تک جاری رہا۔
قوم کے اندر تعمیری شعور پیدا کرنے کے بعد دوبارہ تقریباً ۵۰ سال تک حصول معیار (pursuit of quality) کا دور گزرے رہے۔ یہ دوسرا دور ستینات اور سبعینات (sixties & seventies) کے زمانہ میں جاری رہا۔ اس طرح تیس سالہ فکری جدوجہد کا نتیجہ وہ عملی ترقی ہے جو آج جاپان کو حاصل ہوئی ہے۔
جاپان نے تعمیر شعور کے محاذ پر ۳۰ سال صرف کئے۔ اس کے برعکس موجودہ زمانہ کے مسلم
‹ Previous page Next page › Contents of June 1992 All issues