دعا بھی عمل
الرسالہ، جولائی ۱۹۹۲، صفحہ ۵
دعا بھی عمل
ابن اسحاق نے روایت کیا ہے کہ مکی دور میں قبیلہ دوس کے ایک شخص طفیل بن عمر و الدوی آپ کے پاس آئے۔ انھوں نے آپ سے قرآن کو سنا اور پھر اسلام قبول کر لیا۔ اس کے بعد آپ کی اجازت سے وہ اپنے قبیلہ میں واپس گئے اور ان کو اسلام کی طرف بلانا شروع کیا مگر قبیلہ کے لوگوں نے انکار اور سرکشی کا رویہ اختیار کیا۔ طفیل بن عمر و دوبارہ آپ کے پاس آئے اور کہا کہ قبیلہ دوس کے لوگ حق کے معاملہ میں سرکشی کر رہے ہیں۔ آپ ان کے خلاف بد دعا کیجیے آپ نے اس کے برعکس ہاتھ اٹھایا اور ان کے حق میں دعا کرنا شروع کیا: اے اللہ! تو قبیلہ دوس کو ہدایت دے، اے اللہ! تو قبیلہ دوس کو ہدایت دے۔ پھر آپ نے طفیل بن عمر و سے کہا کہ اپنے قبیلہ کی طرف واپس جاؤ اور اس کو دوبارہ دعوت دو۔ اور اس کے ساتھ نرمی کا معاملہ کرو (سیرت ابن ہشام ، ج / اص ۲۰۹) یہ دعا اور یہ نصیحت کوئی سادہ سی بات نہیں تھی۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ آپ نے طفیل بن عمرو کو منفی نفسیات سے نکال کر مممثبت نفسیات کی طرف موڑ دیا۔ جن لوگوں کے بارے میں ان کے اندر بیزاری کا جذبہ پیدا ہو گیا تھا ان کے لیے ان کے اندر خیر خواہی کا جذبہ بیدار کر دیا۔ جس معاملہ میں طفیل بن عمر و صرف حال کو دیکھ رہے تھے۔ اس معاملہ میں آپ نے ان کے اندر مستقبل کو دیکھنے کی نظر پیدا کر دی۔ دعا ایک اعتبار سے خدا سے مانگنا ہے۔ اور دوسرے اعتبار سے وہ اپنی نفسیات کی صالح تربیت ہے۔ وہ اپنے اندر ربانی طاقت کو بیدار کرنا ہے۔ طفیل بن عمر و جب اس نئی نفسیات کے ساتھ دوبارہ اپنے قبیلہ میں گئے تو وہ گویا ایک نئے انسان بن چکے تھے۔ اب وہ اس قابل تھے کہ زیادہ مؤثر انداز میں حق کی دعوت ان لوگوں کے سامنے پیش کر سکیں ۔ اس کے بعد نتیجہ ظاہر تھا۔ پورے قبیلہ نے اسلام قبول کر لیا۔
جس سوسائٹی میں لوگ ایک دوسرے کے اتنے خیر خواہ بن جائیں کہ وہ ایک دوسرے کے لیے خدا سے دعا کرنے لگیں وہاں اس کا لازمی فائدہ یہ ہوگا کہ پوری سوسائٹی میں ثبت نفسیات کو فروغ حاصل ہوگا ، اور بلاشبہ بہتر سوسائٹی بنانے کے لیے سب سے زیادہ ضروری جو چیز مطلوب ہے وہ یہی ثبت نفسیات ہے۔
5 المنسالی جولائی ۱۹۹۲
‹ Previous page Next page › Contents of July 1992 All issues