Al-Risala · July 1992 · page 6

تمغیر کی طاقت

الرسالہ، جولائی ۱۹۹۲، صفحہ ۶

تمغیر کی طاقت

دوسری عالمی جنگ سے لے کر ۱۹۹۱ تک کا زمامنہ امریکہ اور سوویت یونین کی عظمت کا زمانہ ہے۔ ان دونوں سلطنتوں کو سپر پاور کہا جانے لگا تھا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ یہی دو ملک تھے جن کے پاس سب سے زیادہ ایٹم بم تھے۔ ایٹم بموں کی ملکیت نے انھیں سپر پاور بنا دیا۔ مگر تحقیقات نے بتایا کہ ایٹم بم اپنی ساری فوجی طاقت کے باوجود قابل استعمال ہی نہیں ہیں۔ قدیم زمانے کے ہتھیار (تلوار وغیرہ) کی تخریب کاری محدود ہوتی تھی۔ مگر ایٹم بم کی تخریب کاری لامحدود ہے۔ یہ بم اگر استعمال کیے جائیں تو ان سے عالمی تباہی پیدا ہوگی۔ نتیجہ یہ ہوگا کہ مفتوح کے ساتھ خود فاتح بھی تباہ ہو چکا ہو گا۔ اس طرح کے مختلف حقائق نے ایٹم بم کے استعمال کو نا ممکن بنا دیا۔ ایٹم بم اور دوسرے جدید ہتھیاروں کی تیاری میں امریکہ اور سوویت یونین دونوں کی اقتصادیات کو غیر معمولی نقصان پہنچا تھا۔ امریکہ کی اقتصادیات کھوکھلی ہو گئی۔ مثال کے طور پر امریکہ کے اوپر اس وقت چالیس بلین ڈالر سے زیادہ جاپان کا قرض ہے۔ سوویت یونین کی اقتصادیات مکمل طور پر تباہ ہوگئی۔ حتیٰ کہ اس کا عظیم ایمپائر ٹوٹ کر ختم ہو گیا۔ ۱۹۹۲ سے جدید تاریخ کا نیا دور شروع ہوا۔ اس نئے دور کا نتیجہ امریکی میگزین ٹائم (۱۰ فروری ۱۹۹۲) کے الفاظ میں یہ ہے کہ امریکہ میں اب عام طور پر یہ کہا جانے لگا ہے کہ سرد جنگ ختم ہوگئی اور جاپان جیت گیا۔ امریکہ کی عالمی فوجی سیادت کی معقولیت باقی نہیں رہی۔ امریکہ کو دنیا کی پیچیدہ اقتصادیات میں اب نئی جگہ تلاش کرنا ہوگا۔ امریکہ اگر چہ اب بھی بہت طاقتور اقتصادیات کا مالک ہے مگر وہ محسوس کرنے لگا ہے جیسے کہ اب وہ ایک تخفیف شدہ چیز ہے: This is becoming a familiar line: "The cold war is over, and Japan won." Much of the rationale for America’s global military role is gone, and the U.S. must now find a new place in a complex world economy ... America, still the most powerful economy, nonetheless feels itself to be somehow the diminished thing (p.9)

جنگ کے حالات میں وہ قوم دنیا کی قائد نظر آتی ہے جس کے پاس تخریب کی طاقت ہو، مگر ان کے حالات میں وہ قوم قیادت کرتی ہے جو دنیا کو امن کا تحفہ دے سکے۔

‹ Previous page Next page › Contents of July 1992 All issues

Printed page