Al-Risala · July 1992 · page 11

نکته آفرینی

الرسالہ، جولائی ۱۹۹۲، صفحہ ۱۱

نکته آفرینی

ایک صاحب نے کالج کے یونین ہال میں تقریر کی۔ انھوں نے کہا کہ انگریزی زبان عربی سے ماخوذ ہے۔ انگریزی کے تمام الفاظ عربی زبان سے سرقہ کرکے حاصل کیے گئے ہیں۔ ایک طالب علم کھڑا ہوا۔ اس نے کہا کہ ایسا کیوں کر ہو سکتا ہے۔ آپ تو بڑی عجیب بات کہہ رہے ہیں۔ مقرر نے کہا کہ آپ کو تعجب کرنے کی ضرورت نہیں۔ آپ تجربہ کر لیجئے ۔ آپ کوئی بھی انگریزی کا لفظ بولئے۔ میں بتا دوں گا کہ وہ عربی کے کس لفظ کو لے کر بنایا گیا ہے۔ طالب علم نے کچھ دیر تک سوچا۔ پھر بولا کہ اچھا بتائیے ، بلائنڈ (blind) کا لفظ کس عربی لفظ سے بنا ہے۔ مقرر نے فورا کہا : بلائین ۔

اس کے بعد ایک اور مقرر کھڑے ہوئے۔ انھوں نے اپنی تقریر میں کہا کہ انگریزی کے تمام لفظ اردو سے لیے گئے ہیں۔ انگریزی زبان پوری کی پوری اردو زبان پر مبنی ہے۔ دوبارہ ایک شخص کھڑا ہوا۔ اس نے کہا کہ آپ کا یہ دعویٰ ہماری سمجھ میں نہیں آتا۔ مقرر نے کہا کہ آپ تجربہ کرکے دیکھ لیں۔ آپ انگریزی کا کوئی لفظ بولیں ۔ میں فوراً بتا دوں گا کہ وہ کس اردو لفظ سے ماخوذ ہے۔ آدمی نے سوچ کر کہا کہ ڈیکوریشن (decoration) کس اردو لفظ سے بنا ہے۔ مقرر نے فورا جواب دیا : دیکھورے شان ۔

پھر تیسرے صاحب اٹھے ۔ انھوں نے کہا کہ انگریزی زبان ساری کی ساری ہندی زبان کے الفاظ لے کر بنائی گئی ہے۔ دوبارہ حاضرین میں سے ایک شخص نے پوچھا کہ وہ کیسے ۔ مقرر نے کہا کہ آپ انگریزی کا کوئی لفظ بولئے۔ پھر میں بتاؤں گا۔ انھوں نے کہا کہ لو (love) کس ہندی لفظ سے بنا ہے۔ مقرر نے فوراً کہا ”لو بھ“ اس قسم کی باتیں استدلال نہیں، وہ نکتہ آفرینی ہیں۔ اس طرح کے نکتوں سے کوئی بات ثابت نہیں ہوتی۔ ثبوت کا تعلق حقائق واقعی سے ہے نہ کہ نکتوں اور لطیفوں سے ۔ دانش مند وہ ہے جو دلیل اور لطیفے کے فرق کو سمجھے۔ وہ دلیل والی بات کو اپنائے اور جو بات محض لطیفہ ہو اس سے اعراض کا طریقہ اختیار کرے ۔

‹ Previous page Next page › Contents of July 1992 All issues

Printed page