Al-Risala · July 1992 · page 10

ایک واقعہ دو انجام

الرسالہ، جولائی ۱۹۹۲، صفحہ ۱۰

ایک واقعہ دو انجام

جمیل اختر خاں صاحب سعودی عرب کے ایک شہر میں رہتے ہیں۔ انھوں نے اپنے خط مورخہ ۲۴ جنوری ۱۹۹۲ میں خود اپنی آنکھ سے دیکھا ہوا ایک واقعہ لکھا ہے۔ یہ واقعہ ان کے اپنے الفاظ میں حسب ذیل ہے :

جولائی ۱۹۹۱ کی ایک شام ہے۔ مغرب کی اذان ہو چکی ہے۔ میں کمرہ سے نکل رہا ہوں۔ گیٹ کے باہر چند لڑکے راہ گیروں سے چھیڑ خانی کرتے نظر آ رہے ہیں۔ مجھے دیکھ کر وہ لڑکے لپکے۔ ان کے ہاتھ میں خرگوش کے قسم کا کوئی جنگلی جانور ہے۔ مجھے ڈراتے رہے۔ ایک نے چاہا سر پر کندھے پر پھینک دیں اور پھر تماشہ دیکھیں۔ میں بھانپ گیا کہ اگر ان سے الجھا تو خیر نہیں۔ دل ہی دل میں سوچ لیا کہ یہ جو بھی بے ہودہ حرکت کریں ردعمل کا اظہار نہیں کروں گا۔ میں تیز تیز قدموں سے مسجد کی طرف چلتا رہا۔ میری بے توجہی پر ان لڑکوں نے بھی مجھے میرے حال پر چھوڑ دیا یہاں تک کہ میں بے ضرر مسجد پہنچ گیا۔ نماز سے فراغت کے بعد جب کمرہ میں واپس آ رہا ہوں تو ایک اور منظر سامنے ہے۔ دیکھا وہی لڑکے ایک پاکستانی مسلمان سے الجھے ہوئے ہیں۔ ان لوگوں نے اس جانور کو اس کے بدن پر پھینک دیا۔ اس پر وہ غصہ ہو گیا۔ ایک لڑکے کو مار بیٹھا۔ بس یہیں سے کھیل شروع ہو گیا۔ نتیجہ درجن بھر لڑکے اس پر ٹوٹ پڑے۔ کوئی سر کی مالش کر رہا ہے، کوئی پیٹھ کو تختہ مشق بنائے ہوئے ہے۔ ایک نے پیچھے سے دونوں بازو پکڑ لیا۔ دوسرے نے سینہ پر گھما گھمی شروع کر دی۔ کسی طرح ایک سے جان چھڑاتا تو دوسرا لپٹ جاتا۔ مار مار کر اس کا برا حال کر دیا۔ کون تھا جو اسے چھڑا نے جاتا اور اپنی شامت مول لیتا یہاں تک کہ ایک سعودی جو اس راہ سے گزر رہا تھا، رحم آیا۔ گاڑی روکی۔ دخل اندازی کر کے معاملہ رفع دفع کیا۔ ان صاحب کو معلوم نہیں کتنے دنوں تک چوٹ اور غم کے ساتھ بستر پکڑے رہنا پڑا ہوگا۔

ایک ہی معاملہ میں ایک کی ’’نظر انداز کی پالیسی‘‘ نے بے ضرر چھوڑ دیا دوسرے کو بے صبری کا بروقت تحفہ مل گیا۔ حالانکہ وہ صاحب اگر صرف اتنا کرتے کہ چند قدم لپکتے ہوئے چلتے تو کمرہ میں پہنچ جاتے۔ بعد میں کمرہ میں پہنچے مگر اس حال میں کہ چوٹ سے نڈھال تھے۔ میں نے سوچا انفرادی معاملہ میں بے صبری یہ رنگ لاسکتی ہے تو اجتماعی معاملہ میں وہ کتنا زیادہ سنگین ہو جائے گی۔ ‘‘

‹ Previous page Next page › Contents of July 1992 All issues

Printed page