Al-Risala · July 1992 · page 15

جڑ کی بات

الرسالہ، جولائی ۱۹۹۲، صفحہ ۱۵

جڑ کی بات

۱۸ اپریل ۱۹۸۹ کا واقعہ ہے۔ میری ملاقات ڈاکٹر عبد السلام صاحب سے ہوئی ۔ وہ پچھلے ۲۵ سال سے امریکہ (4740-267-312 .Tel) میں رہتے ہیں۔ وہاں وہ شکاگو کی نارتھ ایسٹرن یونی ورسٹی میں میتھمیٹکس کے پروفیسر ہیں۔

سلمان رشدی کے مسئلہ پر گفتگو کے دوران انھوں نے بتایا کہ مارچ ۱۹۸۹ میں ان کی یونی ورسٹی میں ”رشدی افیئر “ پر ایک سمینار کیا گیا ۔ یونی ورسٹی کے مسلم اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن نے اس سمینار کا انعقاد کیا تھا۔ اس سلسلہ میں انھوں نے جو کچھ کہا ، اس کا ایک جز ر ان کے الفاظ میں یہ تھا : A student in the meeting exclaimed that Rushdie should be killed for his crime. I reminded him that everybody should be serious when speaking. If he really believed that it is his duty to kill Rushdie, by now he would have been in London, and not here talking about it. ایک مسلمان طالب علم نے اس میٹنگ میں پرجوش طور پر کہا کہ رشدی کو شتم رسول کے جرم میں قتل کرنا ضروری ہے۔ میں نے طالب علم کو یاد دلایا کہ ہر آدمی کو اپنے قوال میں سنجیدہ ہونا چاہیے۔ اگر واقعہ وہ یقین رکھتا ہے کہ یہ اس کی ذمہ داری ہے کہ وہ رشدی کو قتل کر دے تو اس وقت اُس کو لندن میں ہونا چاہیے نہ کہ وہ یہاں رہ کر صرف قتل کی باتیں کر رہا ہو۔ یہ واقعہ علامتی طور پر ایک بہت بڑی خرابی کو بتاتا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مسلمانوں کے تعلیم یافتہ طبقہ کی وہ کون سی کمزوری ہے جس نے ان کا یہ حال کر رکھا ہے کہ ان کے یہاں قول کے ہنگامے تو احتساب عالم کی سطح پر جاری ہیں۔ مگر عمل کی سطح پر ابھی تک احیار ملت کی ابتدائی بنیاد بھی قائم نہ کی جاسکی۔

یہ کوئی اتفاقی واقعہ نہیں۔ موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کا تعلیم یافتہ طبقہ عام طور پر اسی کمزوری میں مبتلا ہے۔ وہ کہتا ہے مگر وہ کرتا نہیں۔ وہ قول ہے مگر وہ فعال نہیں ۔ مگر جس قول کے ساتھ عمل شامل نہ ہو وہ گناہ ہے نہ کہ کوئی مطلوب عمل ۔

‹ Previous page Next page › Contents of July 1992 All issues

Printed page