جڑ کی بات
الرسالہ، جولائی ۱۹۹۲، صفحہ ۱۶
وابتـابوا اِلى الله لهم البشرىٰ، فبشر عباد۔ کریں اور وہ اللہ کی طرف رجوع ہوئے ان کے لیے خوش خبری ہے۔ تو تم میرے بندوں کو خوش خبری دے دو، جو بات کو غور سے سنتے ہیں۔ پھر اس کے بہتر پہلو کی پیروی کرتے ہیں۔ یہی وہ لوگ ہیں جن کو اللہ نے ہدایت بخشی ہے اور یہی ہیں جو عقل والے ہیں۔
اس آیت میں حکم دیا گیا ہے کہ احسن القول کو لو اور اسود القول کو چھوڑ دو۔ کسی قول کا احسن اور اسود (اچھا اور برا پہلو) اس کے مفہوم میں نہیں ہوتا بلکہ اس کے الفاظ میں ہوتا ہے۔ کوئی کلام، خواہ وہ کوئی مقدس کلام کیوں نہ ہو، وہ بہر حال انسانی زبان میں ہوتا ہے۔ انسانی زبان کی محدودیت کی بنا پر اس کے ظاہر الفاظ میں اچھا اور برا، دونوں پہلو نکالنے کی گنجائش ہوتی ہے۔ مگر اللہ کا ڈر آدمی کو سنجیدہ اور محتاط بنا دیتا ہے۔ اس لیے اللہ سے ڈرنے والے آدمی کا طریقہ یہ ہوتا ہے کہ وہ کلام کو نہایت غور کے ساتھ سنتا ہے۔ اس کے بعد وہ کلام کو اس مفہوم میں لیتا ہے جو اس کا اچھا مفہوم ہے۔ وہ کلام کو اس کے برے مفہوم میں نہیں لیتا۔
جو لوگ کسی کلام کو بے پروائی کے ساتھ سنیں اور اس کے بعد اس کا ایک برا مفہوم نکال کر اس کو ادھر ادھر بیان کرنے لگیں وہ شیطان کی پیروی کرنے والے ہیں۔ ان کے لیے اللہ تعالیٰ کے یہاں بری خبر ہے۔ اس کے برعکس جن لوگوں کا حال یہ ہو کہ وہ کلام کو پورے دھیان کے ساتھ سنیں اور پھر اس کا اچھا مفہوم نکال کر اس کو لوگوں کے سامنے پیش کریں، وہ حق کی پیروی کرنے والے ہیں۔ ایسے لوگوں کے لیے اللہ کے یہاں اچھی خبر ہے اور ان کے لیے بڑا انعام ہے۔
کلام کو برے مفہوم میں لینے والا آدمی بے عقل آدمی ہے اور جو آدمی کلام کو اچھے مفہوم میں لے وہی عقل والا ہے۔ آخرت میں اس کو جنت کے باغوں میں بسایا جائے گا۔
‹ Previous page Next page › Contents of July 1992 All issues