Al-Risala · July 1992 · page 21

دو لفظ

الرسالہ، جولائی ۱۹۹۲، صفحہ ۲۱

یہ انسان

راج تھاپر ایک ہندوستانی خاتون ہیں۔ وہ سابق وزیرِ اعظم اندرا گاندھی کے اندرونی طبقہ سے تعلق رکھتی تھیں۔ انھوں نے اپنی ایک یادداشت شائع کی ہے۔ اس کا نام (inner circle) یہ تمام سال (All These Years) ہے اور وہ ۴۷۲ صفحات پر مشتمل ہے۔

راج تھاپر نے لکھا ہے کہ اندرا گاندھی کی حیثیت ابتداءً عام شہری (ordinary citizen) کی تھی۔ اس کے بعد وہ ملک کی ایک ملکہ (express) بن گئیں۔ پندرہ سال تک انھیں اقتدار حاصل رہا۔ حالت اقتدار ہی میں خود ان کے ایک باڈی گارڈ نے انھیں گولی مار کر ہلاک کر دیا۔ راج تھاپر نے اندرا گاندھی کا واقعہ لکھا ہے۔ ایک بار اندرا گاندھی کھانے کی میز پر تھیں۔ دوسرے کئی لوگ بھی موجود تھے۔ اندرا گاندھی نے ایک ملازم کو سختی کے ساتھ اس بات پر ڈانٹا کہ اس نے پارٹی میں سب سے پہلے اندرا کے سامنے کھانا پیش نہیں کیا تھا۔ انھوں نے کہا کہ میں ان کو سبق سکھاؤں گی۔ آپ کو معلوم ہے، سربراہِ سلطنت کو سب سے پہلے کھانا پیش کیا جاتا ہے : Once she fiercely berated a servant for not serving her first at a party. Said she: "I have to teach them, you know. All heads of state are served first.". اندرا گاندھی کے لیے یہ بات ناقابل برداشت تھی کہ کسی مجلس میں ان کو نمبر ۲ کی حیثیت دی جائے۔ مگر ان کو یہ معلوم نہ تھا کہ جلد ہی ان کا یہ بھرم ٹوٹ جانے والا ہے۔ خود ان کے باڈی گارڈ کی گولی انھیں ان کے اعلیٰ مقام سے اتار کر آخری نچلے مقام پر پہنچا دے گی۔ یہی آج ہر انسان کا حال ہے۔ جس آدمی کو جو مقام مل گیا ہے، اس میں وہ معمولی نقص بھی گوارا کرنے کے لیے تیار نہیں۔ وہ بھول جاتا ہے کہ آخر کار وہ بالکل بے مقام ہو جانے والا ہے ۔ آدمی جزئی کمی کو برداشت نہیں کرتا، حالانکہ عنقریب وہ وقت آنے والا ہے جبکہ قدرت کا قانون اس کی مکمل نفی کر دے ۔

لوگ صرف اپنے حال کو جانتے ہیں، اپنے مستقبل کی کسی کو خبر نہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of July 1992 All issues

Printed page