تشکیل حیات
الرسالہ، جولائی ۱۹۹۲، صفحہ ۲۲
تشکیل حیات
ایک مبصر نے جدید سائنسی تہذیب پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ اس کے اندر فکری استحکام نہیں۔ چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ بطلیموس کی جگہ کوپرنیکس ظاہر ہوا۔ پھر کو پر نیکیں کی جگہ نیوٹن نے لے لی۔ اس کے بعد نیوٹن کی جگہ آئن سٹائن آگیا :
Copernicus replaced Ptolemy, Newton replaced Copernicus, موجودہ دور کے کلچر کو " کلچر آف ٹکنالوجی " کہا جاتا ہے۔ مگر یہ ایک متضاد ترکیب ہے۔ کلچر اپنی ذات میں دوامیت چاہتا ہے۔ مگر سائنس یا ٹکنالوجی دوامی صفت سے خالی ہیں۔ ایسی حالت میں ٹکنالوجی کی بنیاد پر بننے والا کلچر ہمیشہ غیر مستحکم رہے گا۔ وہ انسانی فطرت کے ابدی تقاضے کو پورا نہیں کر سکتا۔ ٹکنالوجی انسان کی خادم ہے، وہ انسانی کلچر کی بنیاد نہیں۔ ٹکنالوجی صرف یہ کر سکتی ہے کہ وہ زراعت کو ہل کے دور سے نکال کر ٹریکٹر کے دور میں پہنچادے، یا سفر کو بیل گاڑی کے دور سے آگے بڑھاکر ہوائی جہاز کے دور میں داخل کر دے۔ لیکن ٹکنالوجی حقیقی معنوں میں انسان کو کلچر یا تہذیب نہیں دے سکتی۔ ٹکنالوجی انسان کی خادم بن سکتی ہے، مگر اس سے یہ امید نہیں کی جا سکتی کہ وہ انسان کو مذہب حیات فراہم کرنے کا کام انجام دے گی۔
ٹکنالوجی، ایک لفظ میں، خادم حیات ہے اور کلچر مذہب حیات۔ ٹکنالوجی اگر زندگی کی سواری ہے تو کلچر انسان کی منزل متعین کرنے والا ہے۔ سواری جیسی چیزوں کے معاملہ میں تبدیلی سے کوئی حقیقی نقصان نہیں۔ لیکن اگر کلچر کی بنیادوں میں تبدیلی کی جانے لگے تو پوری انسانی زندگی اپنی معنویت کھودے گی۔
صحیح طریقہ یہ ہے کہ ٹکنالوجی کو زندگی کا خدمت گزار بنایا جائے۔ اور مذہب کو کلچر کی بنیاد کے طور پر اختیار کیا جائے۔ پھر جب یہ دیکھا جائے کہ تمام مذاہب میں محفوظ اور ثابت شدہ مذہب صرف اسلام ہے تو یہ بات بھی طے ہو جاتی ہے کہ کلچر کے اعتبار سے زندگی کی تشکیل کے لیے واحد بنیاد صرف اسلام ہے۔ اسلام انسانی زندگی کی تشکیل کے لیے ایسی مستحکم بنیاد فراہم کرتا ہے جس میں تبدیلی کا کوئی سوال نہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of July 1992 All issues