Al-Risala · July 1992 · page 44

The end of one journey is the start of another.

الرسالہ، جولائی ۱۹۹۲، صفحہ ۴۴

مؤرخانہ انداز میں لکھنا چاہیے نہ کہ مقتدرانہ انداز میں۔

میڈیٹرینین میں پیش قدمی کے زمانہ میں سسلی مسلمانوں کے لئے رسدگاہ کا کام کرتا تھا۔ قدیم زمانہ میں مسلمانوں لے اس کو کافی ترقی بھی دی تھی۔ سسلی پر عرب تہذیب کی اتنی گہری چھاپ تھی کہ عربوں کے یہاں سے چلے جانے کے بعد بھی سسلی کے امراء اور سلاطین عرب طرز پر رہتے تھے اور عربوں جیسا لباس پہنتے تھے ، جس طرح موجودہ زمانہ میں برٹش راج سے آزادی حاصل کرنے کے باوجود قدیم برطانوی ممالک برطانوی لباس اور برطانوی زبان کو فخر کے ساتھ اختیار کئے ہوئے ہیں۔ علامہ اقبال نے سسلی کی بابت کہا تھا :

رو لے اب دل کھول کر اے دیدۂ خوں نابہ بار وہ نظر آتا ہے تہذیب حجازی کا مزار مگر سسلی کنارے پر سے پرواز کرتے ہوئے مجھے خیال آیا کہ موجودہ زمانہ میں مواصلاتی ذرائع کی ترقی نے ہمارے لئے دعوت کے مواقع کتنے زیادہ بڑھادئے ہیں۔ ہمارے اسلاف نے "تہذیب حجازی" کو سسلی تک پہنچانے کے لئے برسوں کا دشوار گزار سفر طے کیا تھا۔ آج ہم صرف گھنٹوں کے اندر آسان سفر طے کر کے نسلی پہنچ سکتے ہیں اور وہاں کے باشندوں کو دوبارہ " تہذیب حجازی " کی تسخیری قوت سے مسخر کر سکتے ہیں۔ مگر اس کے لئے دعوتی شعور کی ضرورت ہے، اور دعوتی شعور موجودہ مسلمانوں میں سرے سے موجود نہیں۔

جزیرہ صقلیہ (سسلی) اور جنوبی اٹلی میں ایک عرصہ تک مسلمانوں کا غلبہ رہا ہے۔ اس سلسلہ میں تاریخ کی کتابوں میں کافی مواد موجود ہے۔ اس موضوع پر ۲۸۰ صفحات کی ایک عربی کتاب یہ ہے : احمد توفيق المدنی ، المسلمون في جزيرة صقلية وجنوب ايطاليا. مكتبة الاستقامة ، تونس ، ۱۹۴۶ ، اس کتاب کے صفحہ ۸۶ پر " فتح مالطہ " کا عنوان ہے۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ رومیوں نے ۶۵۳۳ میں مالٹا پر قبضہ کر لیا تھا۔ ۶۷۸۰ میں صقلیہ کے مسلم حکمرانوں نے اس کو اپنے زیر اقتدار نے لیا۔ جزیرہ پر ان کا یہ اقتدار ۱۰۹۰ء تک باقی رہا۔ اس طرح ۲۲۰ سال تک یہاں مسلمانوں کی حکومت قائم رہی۔ کتاب میں بتایا گیا ہے کہ مالٹا کے لوگ محرف عربی بولتے ہیں۔ روم سے مالٹا تک کا پورا سفر میڈیٹرینین کے اوپر سے ہوا۔ سمندر بھی اسی طرح نیلانظر آرہا

‹ Previous page Next page › Contents of July 1992 All issues

Printed page