The end of one journey is the start of another.
الرسالہ، جولائی ۱۹۹۲، صفحہ ۴۳
نکال دیا :
سسلی (صقلیہ) نویں صدی میں مسلمانوں کے قبضہ میں آیا۔ اس کے بعد وہ میڈیٹرینین میں مسلمانوں کی توسیعی مہموں کا مرکز بن گیا۔ یہاں تک کہ نارمن نے ۱۰۹۱ میں ججزیرہ کے اندر اپنا اقتدار قائم کر لیا :
تاریخ کے ان واقعات میں بے پناہ سبق ہے۔ یہ واقعات ہمیں اپنی کمزوریوں کے مطالعہ کی دعوت دیتے ہیں۔ مگر مسلمانوں کی لکھی ہوئی تاریخی کتابیں ان واقعات کو صحیح انداز میں پیش نہیں کرتیں۔ اس لئے ان کو پڑھ کر بھی مسلمان سے صحیح سبق نہیں لے پاتے۔
مثال کے طور پر ابن اثیر کی الکامل فی التاريخ کا ایک باب ہے : جزیرہ صقلیہ پر فرنگیوں کے اقتدار کا ذکر (ذکر ملك الفرنج جزيرة صقلیة) یہ باب ان الفاظ سے شروع ہوتا ہے : في هذه السنة استولى الفرنج اس سن (۲۸۴ھ) میں فرنگی پورے جزیرہ پر لعنهم الله على جميع جزيرة صقلیة قابض ہوگئے، اللہ ان پر لعنت کرے اور اللہ اعادها الله الى الاسلام والمسلمين اس کو دوبارہ اسلام اور مسلمانوں کی طرف لوٹا دے۔
(۱۹۳ / ۱۰)
سسلی پر "فرنگیوں" کا دوبارہ قبضہ، جیسا کہ خود ابن اثیر نے تفصیل سے لکھا ہے، خود مسلمانوں کی باہمی عداوتوں اور آپس کے قتل وخون کی وجہ سے ہوا۔ مگر جب آغاز بحث میں مذکورہ جملہ لکھ دیا جائے تو اس کے بعد سرے سے نصیحت کا ذہن ختم ہو جاتا ہے۔ حالاں کہ تاریخ کے مطالعہ کا اصل فائدہ یہ ہے کہ اس سے حال اور مستقبل کے لئے نصیحت حاصل کی جائے۔ حقیقت یہ ہے کہ تاریخ کو
‹ Previous page Next page › Contents of July 1992 All issues