Al-Risala · July 1992 · page 49

The end of one journey is the start of another.

الرسالہ، جولائی ۱۹۹۲، صفحہ ۴۹

یہی دعا نکلی کہ اللہ آپ کی حیات دراز کرے تاکہ ہم سب آپ کی کد کا وش کے ثمرہ سے خوب سیراب و شبعان رہیں۔ آپ کے رسالہ سے مجھے جتنا فائدہ حاصل ہوتا ہے اتنا مجھے کسی اور پرچہ سے حاصل نہیں ہوتا۔ لیکن افسوس ہے کہ میری اتنی استطاعت نہیں کہ میں آپ کے پرچہ کو خرید کر پڑھ سکوں۔ آپ سے درخواست ہے کہ آپ ہمارے لئے رسالہ عنایت کرتے رہیں اور اپنی دیگر مطبوعات سے بھی ہم طلبہ کی مدد کریں زماداریس عربیہ سے اس قسم کے خطوط ہم کو ملتے رہتے ہیں۔ اس سلسلہ میں اگر کچھ لوگ مالی تعاون کریں وہ انشا اللہ ان کے لئے باعث ثواب ہوگا)

ایک صاحب لکھتے ہیں: ”عظمت صحابہ“ کے نام سے جو رسالہ چھپا ہے، ضرورت ہے کہ وہ تمام لوگوں تک پہنچ جائے۔ اور وہ اچھی طرح سمجھ لیں کہ صحابہ کیسے تھے اور انھوں نے کیا صحیح راستہ ہمارے سامنے رکھا ہے۔ آپ نے اس میں صحابہ کی زندگی کو نہایت صحیح طریقے سے واضح کیا ہے۔ دوسرے لوگ بھی صحابہ کا بیان کرتے ہیں مگر اس طرح نہیں کہ وہ ہمارے لئے کس طرح مشعل راہ ہیں (عبد المجید بٹ، کشمیر)

ایک صاحب لکھتے ہیں : میں نے تذکیر القرآن کا مطالعہ کیا۔ مجھے حیرت کی انتہا نہیں رہی۔ ایسی جامع تفسیر اور سہل تر معانی اور بہت جلد مطلب دماغ میں سما جانے والی کوئی اس طرح کی تفسیر اب تک میری زندگی میں نظر سے نہیں گزری۔ اور عقلیات اسلام اور اللہ اکبر، ان دونوں کتابوں کا بھی مطالعہ کیا۔ واقعی اپنی نوعیت کی بے مثال کتاب ہے۔ پڑھ کر دل باغ باغ ہو جاتا ہے۔ اب تقریر سننے کے لئے کیسٹ کا انتظار ہے (محمد آزاد، کٹہار) خاتونِ اسلام کا نیا ایڈیشن بعض اضافوں کے ساتھ زیرِ طبع ہے۔ اس کتاب کا انگریزی ترجمہ بھی اب انشا اللہ آخری مرحلہ میں ہے۔

آل انڈیا ریڈیو نئی دہلی سے صدر اسلامی مرکز کی ایک تقریر نشر کی گئی۔ یہ تقریر ۵ اپریل ۱۹۹۲ کو نشر ہوئی اور اس کا موضوع عید الفطر تھا۔ اس میں عید الفطر کی مذہبی اور سماجی اہمیت بتائی گئی۔ سیرت رسول پر سادہ و واقعاتی انداز میں ایک کتاب تیار ہو رہی ہے۔ غزوہ بدر تک اس کی تحریر اور کتابت ہو چکی ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of July 1992 All issues

Printed page