The end of one journey is the start of another.
الرسالہ، جولائی ۱۹۹۲، صفحہ ۴۸
صاحبان اس مشن سے متعارف ہوا چکے ہیں اور ان کی طلب میں دن بدن اضافہ ہو رہا ہے۔ (ڈاکٹر حافظ نثار احمد، صادق آباد، پاکستان)
ہارون بھائی ہوزری والے (بمبئی)نے نے اپنی طرف سے زر تعاون ادا کر کے ایک سوا علی تعلیم یافتہ اصحاب کے نام الرسالہ اردو اور انگریزی جاری کروایا ہے۔ جو لوگ اس طرح الرسالہ کے پیغام حق کی اشاعت میں تعاون کر رہے ہیں، اللہ تعالیٰ انھیں جزائے خیر عطا فرمائے۔ ڈاکٹر سلطان احمد صاحب (بنگلور) ہر ماہ الرسالہ کی کئی کاپیاں لے کر لوگوں میں تقسیم کرتے ہیں۔ الرسالہ مارچ ۱۹۹۲ (روزہ نمبر، کی مزید تعداد حاصل کر کے انھوں نے بہت سے لوگوں تک پہنچایا۔ اسی طرح اسلامی مرکز کی انگریزی مطبوعات وہ غیر مسلم صاحبان تک پہنچا رہے ہیں۔ مختلف مقامات پر اسی طرح لوگ الرسالہ اور مطبوعات الرسالہ کی اشاعت میں تعاون کر رہے ہیں۔
شیخ محمد سلیمان القائد نے الرسالہ مشن کی حمایت میں ۲۱۰ صفحات پر مشتمل ایک عربی کتاب لکھی ہے جو قاہرہ سے شائع ہوئی ہے۔ اس کتاب میں کثرت سے مطبوعات الرسالہ کے حوالے شامل ہیں۔ اس کتاب پر مصر کے مشہور ادیب احمد بہت نے ایک تعارفی مضمون لکھا ہے جو قاہرہ کے اخبار الاہرام (۲۱ مارچ ۱۹۹۲) میں ان کے مستقل کالم " صندوق الدنیا " کے تحت شائع ہوا ہے۔ احمد بہت آخر میں لکھتے ہیں: والمفكر الليبي محمد سليمان القائد من تلاميذ المفكر الهندي وحيد الدين خان، وهو يناقش هذه القضايا بفكر واضح ومنطق سليم وحجه قوية (صفحه ۲)
جگدیش سنگھ کا لڑا ایڈوکیٹ (نئی دہلی) الرسالہ کے مستقل قاری ہیں۔ انھوں نے کہا کہ الرسالہ کاروزہ نمبر (مارچ ۱۹۹۲) پڑھ کر پہلی بار مجھ کو معلوم ہو کہ روزہ کیا ہے اور وہ کیوں اتنا ضروری ہے۔ اس سے پہلے میں نے اسلامی عبادات پر بہت کچھ پڑھا تھا مگر اب تک وہ میری سمجھ میں نہیں آیا تھا، روزہ نمبر پڑھ کر پہلی بار اسلامی عبادت کی حقیقت سمجھ میں آئی۔ ایک مشہور عربی درس گاہ کے طالب علم (محمد ابو بکر) لکھتے ہیں کہ جب میں نے آپ کے بھیجے ہوئے الرسالہ کو پایا تو مجھے جو خوشی ہوئی اس کو میں قلم بند نہیں کر سکتا۔ بے ساختہ میرے دل سے
‹ Previous page Next page › Contents of July 1992 All issues