نوعیت حیات
الرسالہ، اگست ۱۹۹۲، صفحہ ۴
نوعیت حیات
ہر آدمی موت کی زد میں ہے۔ ہر آدمی جو زندہ ہے اس کو بہر ہال ایک روز مر جانا ہے۔ ہر آدمی پر وہ وقت آنے والا ہے جب کہ اس کی دیکھنے والی آنکھیں بند ہو جائیں۔ جب اس کی بولنے والی زبان خاموش ہو جائے ۔ جب اس کے چلنے والے قدم ٹھہر کر رہ جائیں۔ جب وہ زندہ انسان کے بجائے مردہ انسان کہا جانے لگے۔
مگر یہ موت خاتمہ حیات نہیں ، وہ ایک نیا آغاز حیات ہے۔ موت وجود سے عدم کی طرف سفر نہیں بلکہ وہ خود زندگی کے ایک مرحلے سے دوسرے مرحلے کی طرف سفر ہے۔ وہ اختیار کے دور سے گزر کر بے اختیاری کے دور میں داخل ہونا ہے۔
جو شخص بھی اپنے آپ کو موجودہ دنیا میں چلتا پھرتا پاتا ہے ، اس پر لازم ہے کہ وہ سب سے پہلے نوعیتِ حیات کو سمجھے۔ اس دنیا میں اسے کیوں بسایا گیا ہے۔ اس کی کامیابی اور ناکامی کا معیار کیا ہے۔ ان سوالات کے جواب کو جاننا انتہائی ضروری ہے۔ تاکہ آدمی اپنی زندگی کا صحیح رخ متعین کر سکے۔ تاکہ وہ اپنے آپ کو حقیقی کامیابی کی سمت میں چلا سکے۔ اس سوال کا صحیح جواب یہ ہے کہ موجودہ دنیا میں انسان حالتِ امتحان میں ہے۔ یہاں جو کچھ بھی کسی آدمی کو ملتا ہے وہ اس کے لیے امتحان کا پرچہ ہے۔ آدمی کو چاہیے کہ اس دنیا میں ملی ہوئی ہر چیز کو اس طرح استعمال کرے جس طرح ایک طالب علم امتحان حال کی چیزوں کو استعمال کرتا ہے کیونکہ اسی استعمال کے صحیح یا غلط ہونے پر اس کے ابدی مستقبل کا فیصلہ ہونے والا ہے۔ موجودہ دنیا میں آدمی اپنے آپ کو اختیار کی حالت میں پاتا ہے۔ مگر یہ اختیار اس جانچ کے لیے ہے کہ آدمی اپنے اختیار کو صحیح ڈھنگ پر استعمال کرتا ہے یا غلط ڈھنگ پر۔ آدمی کی کامیابی یہ ہے کہ وہ اختیار رکھتے ہوئے اپنے آپ کو بے اختیار کرلے۔ وہ اپنی خواہش پر چلنے کے بجائے اصول حق کی پیروی کرے۔ وہ اپنی انا کو اپنا رہنما بنانے کے بجائے اس قادر مطلق کو اپنا رہنما بنائے جس نے اس کو پیدا کر کے اس دنیا میں رکھا ہے اور جو آخر کار اس کا حساب لینے والا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of August 1992 All issues