Al-Risala · August 1992 · page 5

صرف ایک بار

الرسالہ، اگست ۱۹۹۲، صفحہ ۵

صرف ایک بار

موجودہ دنیا میں لذت طلب ہے ، مگر یہاں لذت حصول نہیں ۔ یہاں منزل کی طرف دوڑنا ہے ، مگر یہاں کسی کے لیے اپنی مطلوب منزل پر پہونچنا مقدر نہیں ۔

ایک شخص زندگی کی جدوجہد میں داخل ہوتا ہے ۔ وہ کامیاب زندگی حاصل کرنے کے لیے اپنا سارا وقت اور اپنی ساری طاقت لگا دیتا ہے ۔ مگر کامیاب زندگی پالینے کے باوجود اس کا احساس محرومی ختم نہیں ہوتا ۔

اپنے نشانہ کے مطابق ، جب آدمی قابل اعتماد جاب ، اچھی کار ، فرنشڈ مکان ، حاصل کر لیتا ہے تو اس کے بعد اس کو معلوم ہوتا ہے کہ وہ اپنی آرزوؤں کی تکمیل نہ کر سکا ۔ اب زندگی اس کے لیے ”عیش“ نہیں رہتی ، بلکہ زندگی اس کے لیے صرف ”ذمہ داری“ بن کر رہ جاتی ہے ۔

آدمی سمجھتا ہے کہ وہ پانے کی طرف بڑھ رہا ہے ۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ وہ صرف کھونے کی طرف تیزی کے ساتھ اپنا سفر طے کر رہا ہے ۔ آدمی اس گمان میں مبتلا ہے کہ وہ اپنے مطلوب کو حاصل کر رہا ہے ، حالانکہ اس کے برعکس اصل واقعہ یہ ہے کہ وہ ہر لمحہ اپنے مطلوب سے دور ہوتا جا رہا ہے ۔ وہ اپنا سفر برعکس سمت میں جاری کیے ہوئے ہے ۔ اور جو شخص جتنا زیادہ تیز رفتار ہے اتنا ہی زیادہ تیزی کے ساتھ وہ اپنی منزل سے دور ہوتا جا رہا ہے ۔

آدمی کی بنیادی غلطی یہ ہے کہ اس نے دنیا کو اپنا نشانہ بنایا ۔ آدمی کے لیے صحیح بات یہ تھی کہ وہ آخرت کو اپنا نشانہ بنائے ۔ آدمی کو جاننا چاہیے کہ دنیا صرف بیج بونے کی جگہ ہے ، وہ فصل کاٹنے کا مقام نہیں ۔ جو آدمی دنیا کو چاہے ، اس نے ایسی چیز کو چاہا جو سرے سے ملنے والی نہیں ۔ عقل مند وہ ہے جو آخرت کا طالب بنے ۔ کیوں کہ آخرت ہی حقیقی ہے ، اور وہی وہ چیز ہے جس کو کوئی پانے والا موت کے بعد کی زندگی میں اپنے لیے پائے گا ۔ زندگی کا سب سے زیادہ سنگین پہلو یہ ہے کہ یہ زندگی کسی کو صرف ایک بار ملتی ہے ۔ آدمی کو صرف ایک بار عمل کرنے کا موقع دیا گیا ہے ۔ اس کے بعد صرف ابدی انجام ہے ، اس کے سوا اور کچھ نہیں ۔ یہ صورت حال تقاضا کرتی ہے کہ آدمی موجودہ دنیا میں اپنی زندگی کے استعمال کے معاملہ میں انتہائی حد تک سنجیدہ اور محتاط ہو ، وہ اپنی زندگی کا رخ متعین کرنے میں آخری حد تک با ہوش انسان بن جائے ۔

‹ Previous page Next page › Contents of August 1992 All issues

Printed page