Al-Risala · August 1992 · page 6

ہدایت وضلالت

الرسالہ، اگست ۱۹۹۲، صفحہ ۶

ہدایت وضلالت

قرآن کتاب ہدایت (البقرہ ۱۸۵) ہے۔ بظاہر یہ ہونا چاہیے کہ آدمی کو قرآن سے صرف رہنمائی ملے۔ مگر قرآن میں بتایا گیا ہے کہ اللہ اس قرآن کے ذریعہ بہت سے لوگوں کو گمراہ کرتا ہے اور وہ بہت سے لوگوں کو اس سے راہ دکھاتا ہے (يُضِلُّ بِهِ كَثِيرًا وَيَهْدِي بِهِ كَثِيرًا) البقرہ ۲۶ یہاں یہ سوال ہے کہ وہ کون لوگ ہیں جن کو قرآن سے ہدایت ملتی ہے اور وہ کون لوگ ہیں جو قرآن کو پڑھنے کے باوجود گمراہ ہوجاتے ہیں ، اس کا جواب خود قرآن میں موجود ہے۔ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ یہ اگرچہ حق وصداقت کی کتاب ہے۔ مگر اس سے ہدایت صرف اس شخص کو ملتی ہے جو متقی ہو (البقرہ ۲) دوسری جگہ بتایا گیا ہے کہ جو لوگ فاسق ہوں، ان کو قرآن سے ضلالت اور گمراہی کے سوا اور کچھ نہیں ملے گا (البقرہ ۲۶)

اب دیکھیے کہ متقی ہونا کیا ہے اور فاسق ہونا کیا ہے۔ متقی کا لفظ تقوی (وقی یقی) سے بنا ہے۔ عربی میں اس کے اصل معنی بچنے کے ہیں۔ یعنی معاملات میں محتاط ہونا (to be cautious of) قرآن میں ہے که : فمن اتقی واصلح (الاعراف ۳۵) یعنی جس شخص نے احتیاط کا انداز اختیار کیا اور پیچ بچ کر زندگی گزاری ، وہ آخرت میں خوشیوں کی زندگی حاصل کرے گا۔

فاسق کا لفظ فسق سے نکلا ہے۔ عربی میں فسق کے معنی ہیں نکلنا، درست طریقہ سے ہٹ جانا (to go astray) قرآن میں ابلیس کے لیے آیا ہے : ففسق عن امر ربه (الكهف ۵۰) یعنی ابلیس نے خدا کے حکم کو سیدھی طرح نہیں اپنایا، وہ خدا کے حکم سے ہٹ گیا۔

تقوی اور فسق ، اپنی حقیقت کے اعتبار سے وہی چیز ہے جس کو آج کل کی زبان میں سنجیدگی (sincerity) اور غیر سنجیدگی (insincerity) کہا جاتا ہے۔ قرآن سے سچی رہنمائی صرف اس شخص کو ملتی ہے جس کے اندر سنجیدگی کا مزاج ہو۔ جو آدمی اپنے مزاج کے اعتبار سے غیر سنجیدہ ہو، اس کو قرآن سے کبھی رہنمائی نہیں مل سکتی۔

قرآن سے ہدایت پانے کی شرط یہ ہے کہ آدمی خالی الذہن ہو کر قرآن کو پڑھے۔ جو شخص خالی الذہن نہ ہو وہ قرآن میں اپنے آپ کو پائے گا نہ کہ قرآن کو۔

‹ Previous page Next page › Contents of August 1992 All issues

Printed page