دشمن میں دوست
الرسالہ، جنوری ۱۹۹۲، صفحہ ۳۷
عام مزاج یہ ہے کہ لوگ اپنوں کو اپنا اور غیروں کو غیر سمجھتے ہیں۔ مگر کھلے دل والے انسان کے لیے ہر ایک اس کا اپنا ہے، کوئی اس کا غیر نہیں۔ سوامی رام تیرتھ (۱۹۰۶ء ۔ ۱۸۷۳) نہایت قابل آدمی تھے۔ ان کا ایک بہت با معنی قول ہے: زندگی کے سب دروازوں پر لکھا ہوا ہوتا ہے " کھینچو" مگر اکثر ہم اسے " دھکا " دینا شروع کر دیتے ہیں۔
سوامی رام تیرتھ روانی کے ساتھ انگریزی بولتے تھے۔ وہ دھرم کے پرچار کے لیے ۱۹۰۳ء میں امریکہ گئے۔ ان کا جہاز سان فرانسسکو کے سمندری ساحل پر لنگر انداز ہوا۔ وہ اترے تو ایک امریکی از راہ تعارف ان کے قریب آیا۔ اس کے بعد جو گفتگو ہوئی وہ یہ تھی : " آپ کا سامان کہاں ہے " امریکی نے پوچھا۔
" میرا سامان بس یہی ہے " سوامی رام تیرتھ نے جواب دیا۔ " اپنا روپیہ پیسہ آپ کہاں رکھتے ہیں "
" میرے پاس روپیہ پیسہ ہے ہی نہیں "
" پھر آپ کا کام کیسے چلتا ہے "
" میں سب سے پیار کرتا ہوں، بس اسی سے میرا سب کام چل جاتا ہے " " تو امریکہ میں آپ کا کوئی دوست ضرور ہوگا "
" ہاں ایک دوست ہے اور وہ دوست یہ ہے "
سوامی رام تیرتھ نے یہ کہا اور اپنے دونوں بازو امریکی شخص کے گلے میں ڈال دیے۔ امریکی ان کی اس بات سے بہت متاثر ہوا: اس کے بعد وہ امریکی ان کا اتنا گہرا دوست بن گیا کہ وہ انہیں اپنے گھر لے گیا اور سوامی رام تیرتھ جب تک امریکہ میں رہے وہ برابر ان کے ساتھ رہا اور ان کی خدمت کرتا رہا۔ حتیٰ کہ وہ ان کا شاگرد بن گیا۔ اس دنیا میں محبت سب سے بڑی طاقت ہے۔ محبت کے ذریعہ آپ اپنے مخالف کو جھکا سکتے ہیں اور ایک اجنبی شخص کو اپنا بنا سکتے ہیں۔ بشرطیکہ آپ کی محبت سچی محبت ہو، وہ دکھاوے اور نمائش کے لیے نہ ہو۔
‹ Previous page Next page › Contents of January 1992 All issues