Al-Risala · January 1992 · page 38

ناکامی میں کامیابی

الرسالہ، جنوری ۱۹۹۲، صفحہ ۳۸

ناکامی میں کامیابی

موہن سنگھ اوبرائے 15 اگست 1900 کو جہلم کے ایک گاؤں میں پیدا ہوئے۔ ان کے باپ پشاور میں ٹھیکہ داری کا کام کرتے تھے۔ مگر مسٹر اوبرائے ابھی صرف چھ مہینے کے تھے کہ ان کے باپ کا انتقال ہو گیا ۔ باپ کے مرنے کے بعد مسٹر اوبرائے بے وسیلہ ہو کر رہ گئے۔ بڑی مشکلوں سے انھوں نے سرگودھا سے میٹرک کیا اور لاہور سے انٹرمیڈیٹ کا امتحان پاس کیا۔ اس کے بعد مالی دشواری کی بنا پر وہ تعلیم جاری نہ رکھ سکے۔

مسٹر اوبرائے نے اپنی زندگی کے حالات لکھے ہیں جو ٹائمز آف انڈیا کے سنڈے ایڈیشن (12 اگست 1990) میں چھپے ہیں ۔ وہ لکھتے ہیں کہ انٹرمیڈیٹ کے بعد جب میں نے دیکھا کہ اب میں مزید تعلیم حاصل نہیں کر سکتا تو یہ میری زندگی میں بڑی تشویش کا لمحہ تھا۔ کیوں کہ میں نے محسوس کیا کہ موجودہ تعلیمی لیاقت کے ذریعہ میں کوئی سروس حاصل نہیں کر سکتا : This was a moment of anxiety in my life as I realised that my qualifications would not get me a job. سروس سے محرومی انھیں بزنس کے میدان میں لے گئی۔ یہ کاروباری جدوجہد کی ایک لمبی کہانی ہے جس کو مذکورہ اخبار میں دیکھا جا سکتا ہے ۔ خلاصہ یہ کہ 1924 میں وہ معمولی طور پر ایک ہوٹل کے کام میں شریک ہوئے ۔ 1939 میں جب دوسری عالمی جنگ شروع ہوئی تو وہ کلکتہ میں اپنا ایک ہوٹل شروع کر چکے تھے۔ ان کا کام بڑھتا رہا۔ یہاں تک کہ آج وہ ایک " ہوٹل ایمپائر" کے مالک ہیں ۔ ہندوستان کے اکثر بڑے شہروں میں ان کے ہوٹل " اوبرائے " کے نام سے قائم ہیں۔ اس کے علاوہ سنگاپور ، سعودی عرب ، سری لنکا ، نیپال ، خلیج ، مصر اور افریقہ میں ان کے بڑے بڑے ہوٹل کامیابی کے ساتھ چل رہے ہیں ۔

مسٹر اوبرائے کو سروس کے میدان میں جگہ نہیں ملی تو انھوں نے بزنس کے میدان میں اس سے زیادہ بڑی جگہ اپنے لیے حاصل کرلی ۔ یہی موجودہ دنیا میں کامیابی کا سب سے بڑا راز ہے۔ یہاں کامیاب وہ ہوتا ہے جو گرنے کے بعد دوبارہ اٹھنے کی صلاحیت کا ثبوت دے سکے۔

‹ Previous page Next page › Contents of January 1992 All issues

Printed page