حامل کتاب
الرسالہ، اگست ۱۹۹۲، صفحہ ۸
حامل کتاب
قرآن میں بنی اسرائیل (یہود) کا ذکر کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ : جن لوگوں کو تو رات کا حامل بنایا گیا ، پھر وہ اس کے حامل نہ بن سکے، ان کی مثال اس گدھے کی سی ہے جو کتابوں کا بوجھ اٹھائے ہوئے ہو۔ کیسی بری مثال ہے ان لوگوں کی جنہوں نے اللہ کی آیتوں کو جھٹلایا، اور اللہ ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا (الجمعہ) اس آیت کے مطابق کسی گروہ کے لیے حامل کتاب ہونے کے دو درجے ہیں، ایک یہ کہ وہ بجھ انسان کے طور پر اس کا حامل بنے۔ اور دوسرے یہ کہ وہ ”حیوان “ کے طور پر اس کا حامل بنا ہوا ہو۔ ایک حقیقی انسان جب کتاب خداوندی کا حامل ہو تو اس کا پورا وجود اس کتاب کا حامل بن جاتا ہے اس کی شخصیت کا ہر جزو اس میں اپنا حصہ ادا کرنے کے لیے حرکت میں آجاتا ہے۔ ایک طرف اس کا جسمانی ہاتھ اس کتاب کو اٹھائے ہوئے ہوتا ہے، دوسری طرف اس کا حال یہ ہوتا ہے کہ اس کی سوچ اسی کے رخ پر چلتی ہے۔ اس کے تمام ذہنی نقشے اسی کی تعلیمات کے مطابق تشکیل پاتے ہیں۔ اس کا شعور پوری طرح اس کے فکری سانچے میں ڈھل جاتا ہے۔ اس کی محبتوں کا مرجع وہی ہوتا ہے جو اس کتاب میں بتایا گیا ہے، اس کے خوف اور اندیشوں کی بنیاد اسی کتاب کی تعلیمات ہوتی ہیں۔ وہ وہی چاہتا ہے جو اس کتاب کے مطابق چاہنا چاہیے اور ان چیزوں کو چاہنے سے رک جاتا ہے جن کی بابت اس کتاب میں منع کر دیا گیا ہے۔
دوسرا درجہ حیوان کی سطح پر حامل کتاب بننے کا ہے۔ ایسے لوگوں کا ”جسم“ تو کتاب الہی کو اٹھائے ہوئے ہوتا ہے مگر ان کی ”روح“ کتاب الہی کی حامل نہیں ہوتی۔ ظاہری طور پر وہ اپنے ہاتھ میں خدا کی کتاب کو تھامے ہوئے ہوتے ہیں مگر ان کا دل اور دماغ اس روشنی اور حرارت سے خالی ہوتا ہے جو اس کتاب کو اپنانے کے نتیجہ میں کسی کے اندر پائی جانی چاہیے۔
وحی الہی کا حامل صرف وہ ہے جو روح کی سطح پر وحی کا حامل ہو۔ جو لوگ جسم کی سطح پر اس کے حامل ہوں ان کی مثال اس حیوان کی سی ہے جس کی پیٹھ پر کتابوں کا بوجھ لدا ہوا ہو مگر اس کا باطن اس کی نورانیت سے خالی ہو۔
کتاب خداوندی کے حامل صرف وہ لوگ ہیں جو انسان کی حیثیت سے اس کتاب کے حامل بنیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of August 1992 All issues