جنت کی قیمت
الرسالہ، اگست ۱۹۹۲، صفحہ ۹
جنت کی قیمت
دنیا میں آدمی سطحیت کی قیمت پاتا ہے ، آخرت میں آدمی معنویت کی قیمت پائے گا ۔ یہی ایک لفظ میں دنیا اور آخرت کے معاملہ کا خلاصہ ہے ۔
قرآن میں ارشاد ہوا ہے کہ : اور ان چیزوں کی طرف بالکل نہ دیکھو جن کو ہم نے کچھ گروہوں کو ان کی آزمائش کے لیے انہیں دے رکھا ہے۔ اور تمہارے رب کا رزق زیادہ بہتر اور باقی رہنے والا ہے ولا تمدن عيـنيـك الى ما متعنا به ازواجا منهم زهرة الحياة الدنيا لنفتنهم فيه ورزق ربـك خـيـر وابقىٰ، طٰهٰ ۱۳۱ ایک شخص جس کو دنیا کی رونقیں ملی ہوئی ہوں ، بظاہر وہ لوگوں کو قابلِ رشک دکھائی دیتا ہے۔ مگر حقیقت کے اعتبار سے وہ قابلِ رحم ہے۔ کیوں کہ اس کے گرد رونقوں کی فراہمی یہ بتاتی ہے کہ وہ خدا کی آزمائش میں ناکام ہو گیا ۔
موجودہ دنیا میں آدمی ہر آن دو چیزوں کے درمیان ہے۔ اس کے ایک طرف معنوی حقیقتیں ہیں ۔ اور دوسری طرف ظاہری رونقوں والی چیزیں۔ جو آدمی معنوی حقیقتوں پر دھیان دے ، وہ ظاہری رونقوں کی رعایت نہیں کر پاتا ، اس لیے وہ ان کو حاصل کرنے سے محروم رہتا ہے۔ اس کے برعکس جو شخص ظاہری رونقوں والی چیزوں میں دل چسپی لے ، وہ ان کی خوب رعایت کرتا ہے۔ اس لیے وہ ان کو پانے میں کبھی کامیاب ہو جاتا ہے۔ مگر یہ پانا ایک محرومی کی قیمت پر ہوتا ہے۔ یہ اس بات کا ثبوت ہوتا ہے کہ اس نے ' زہرہ دنیا ' کو پایا ، مگر وہ " رزق رب " کی زیادہ قیمتی چیز کو نہ پا سکا ۔ جنت کو پانا آسان ہے۔ مگر جنت کسی آدمی کو ایک مہنگی قیمت پر ملتی ہے ۔ اور وہ ہے — ظواہر کے کھونے کو برداشت کرنا ، اور معانی کو پا کر اس پر راضی رہنا۔ ظواہر میں محنت کا فائدہ نقد ملتا ہے، اور معانی میں محنت کا فائدہ ادھار رہتا ہے۔ ظواہر میں محنت کرنے والوں کو دولت ، بھیڑ ، عہدہ ، عزت ، ہر چیز فوراً حاصل ہو جاتی ہے۔ اس کے برعکس معانی میں محنت کرنے والے کو جو کچھ ملے گا آخرت میں ملے گا۔ ظواہر سے محرومی پر راضی ہونا گو یا نا قابلِ برداشت کو برداشت کرنا ہے۔ یہی جنت کی قیمت ہے۔ جو لوگ اس ناقابلِ برداشت کو برداشت نہ کریں وہ جنت میں داخلہ کی خوشی بھی نہیں پائیں گے ۔
‹ Previous page Next page › Contents of August 1992 All issues