اس کا سبب
الرسالہ، اگست ۱۹۹۲، صفحہ ۱۲
اس کا سبب
قرآن میں ارشاد ہوا ہے : او یلبسکم شیعا فیذیق بعضکم باس بعض (یہمیں کو گروہوں میں بانٹ دے اور پھر ایک کو دوسرے کی طاقت کا مزہ چکھائے)
اس آیت میں جس صورت حال کا ذکر ہے اس کی نسبت بظاہر خدا کی طرف کی گئی ہے۔ مگر در اصل اس کی نسبت انسان کی طرف ہے۔ یعنی بدلے ہوئے الفاظ میں اس کا مطلب یہ ہے کہ تم مختلف گروہوں میں بٹ کر آپس میں لڑو گے۔ مذکورہ اسلوب صرف اس لیے اختیار کیا گیا ہے کہ دنیا میں جو کچھ ہوتا ہے وہ خدا کے قانون کے تحت ہوتا ہے۔ آیت کا مطلب یہ ہے کہ اگر تم خدا سے بے تعلق ہو جاؤ گے تو تمہارا حال یہ ہو جائے گا کہ تم آپس میں لڑنے لگو گے۔
ساری تاریخ میں ایسا ہوا ہے کہ انسان لڑتا رہا ہے۔ ایک شخص اپنی طاقت کا مزہ دوسرے شخص کو چکھاتا رہا ہے۔ اس کی وجہ کیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ دنیا کا نظام کچھ اس طرح بنا ہے کہ یہاں ہر ایک یکساں حالت میں نہیں رہتا۔ کوئی کمزور ہوتا ہے اور کوئی طاقت ور۔ اب جو طاقت ور ہوتا ہے اس کے اندر اپنی طاقت کا گھمنڈ آ جاتا ہے۔ اس کو اگر کسی سے شکایت پیدا ہو جائے تو فورا وہ اپنی طاقت اس کے اوپر آزمانا شروع کر دیتا ہے۔ وہ اپنی طاقت کو اپنی برتری قائم کرنے کے لیے استعمال کرتا ہے۔ اس صورت حال سے بچانے والی چیز صرف ایک ہے اور وہ یہ کہ آدمی اللہ سے ڈرے۔ اس کو یقین ہو کہ میرے اوپر ایک اور ہستی ہے جو مجھ سے زیادہ طاقت ور ہے۔ اگر میں نے اپنی طاقت کا غلط استعمال کیا تو وہ مجھ کو ضرور اس کی سزا دے گا۔
مسلمانوں میں جب اللہ کا خوف ہو تو ہر آدمی تواضع کی نفسیات میں جی رہا ہوتا ہے۔ تواضع کی نفسیات اس میں رکاوٹ بن جاتی ہے کہ وہ دوسرے سے لڑے، وہ دوسرے کو اپنی طاقت کا مزہ چکھائے۔ اس کے برعکس جب مسلمانوں میں اللہ کا خوف باقی نہ رہے تو وہ سرکشی کی نفسیات میں جینے لگتے لگتے ہیں۔ سرکشی کی نفسیات ہر آدمی کو بے لگام بنا دیتی ہے۔ جس شخص کے پاس بھی کوئی طاقت ہو وہ اپنی اس طاقت کو دوسروں کے اوپر استعمال کرنا شروع کر دیتا ہے۔
خدا کے خوف سے امن کا سماج بنتا ہے ، اور خدا سے بے خوفی سے لے امن کا سماج
‹ Previous page Next page › Contents of August 1992 All issues