Al-Risala · August 1992 · page 13

الدنیا کا جوڑا

الرسالہ، اگست ۱۹۹۲، صفحہ ۱۳

الدنیا کا جوڑا

والارض فرشناها فنعم الماهدون۔ ومن كلّ اور ہم نے زمین کو بچھایا، پس کیا ہی خوب پھیلنے شيئ خلقنا زوجين لعلكم تذكرون۔ والے ہیں۔ اور ہم نے ہر چیز کو جوڑا جوڑا بنایا تاکہ ففروا إلى الله إني لكم منه نذير مبين تم دھیان کرو۔ پس دوڑو اللہ کی طرف، میں اس (الذاریات: ۴۸-۵۰) کی طرف ایک کھلا ڈرانے والا ہوں۔

اس دنیا کی ہر چیز جوڑے جوڑے کی صورت میں ہے۔ ہر چیز اپنے جوڑے سے مل کر اپنے مقصد کی تکمیل کرتی ہے۔ ایٹم میں منفی اور مثبت ذرہ، نباتات اور حیوانات میں نر اور مادہ، انسان میں عورت اور مرد۔ وغیرہ۔ حتی کہ فلکیاتی مشاہدہ کے مطابق ستارے بھی جوڑے سے جوڑے کی صورت میں ہیں۔ دنیا کا یہ نظام آدمی کو سوچنے کی دعوت دیتا ہے۔ اس کے سامنے یہ سوال آتا ہے کہ اس کائنات میں جب ہر چیز کا جوڑا ہے تو زمین کا جوڑا کہاں ہے۔ ہماری زمین خلا کے اندر ایک تنہا قسم کی چیز دکھائی دیتی ہے۔ یہ آباد اور شاداب کره اکیلا نہیں ہو سکتا۔ ضرور ہے کہ اس کا بھی ایک جوڑا موجود ہو۔ قرآن اسی عقلی تقاضے کی تصدیق کرتا ہے۔ قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ نے دنیا کو بھی، دوسری تمام چیزوں کی طرح، جوڑے کی صورت میں بنایا ہے۔ چنانچہ یہاں ایک ارض دنیا ہے، اور دوسری ارض الجنہ (الزمر ۷۴)، موجودہ عالم (ارض الدنیا) میں انسان کا قیام برائے آزمائش ہے، دوسرے عالم (ارض الجنہ) میں انسان کا قیام برائے انعام ہوگا۔ موجودہ دنیا اپنے اخروی جوڑے کے ساتھ مل کر اپنے وجود کو مکمل کرتی ہے۔

ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے دو عالم پیدا کیے۔ ایک کامل اور دوسرا غیر کامل۔ ایک باقی اور دوسرا فانی۔ ایک اعلیٰ اور دوسرا ادنیٰ۔ ایک لا محدود اور دوسرا محدود۔ ایک عالم کو اس نے فرشتوں کے انتظام میں رکھا اور دوسرے کو انسانوں کے انتظام میں دیدیا۔

یہاں آدمی کا قیام برائے امتحان ہے، اگلی دنیا میں اس کا قیام بطور انعام ہوگا۔ جو لوگ موجودہ عالم امتحان میں اپنے کو اہل ثابت کریں گے وہ اگلی کامل اور معیاری دنیا میں جگہ پائیں گے۔ اور جو لوگ اس عالم امتحان میں ناکام رہیں گے وہ ہمیشہ کے لیے کائناتی کوڑا خانہ میں پھینک دیے جائیں گے۔

‹ Previous page Next page › Contents of August 1992 All issues

Printed page