امر بالمعروف، نہی عن المنکر
الرسالہ، اگست ۱۹۹۲، صفحہ ۲۴
کامیابی کا راز
ٹاٹا خاندان نے صنعت کے میدان میں ہندوستان میں غیر معمولی ترقی کی ہے۔ ان کا صنعتی پھیلاؤ اتنا زیادہ ہے کہ اس کو ٹاٹا انڈسٹریل ایمپائر کہا جاتا ہے۔ یہ ترقی انھیں اتفاقاً حاصل نہیں ہو گئی۔ بلکہ اس کے معلوم اسباب ہیں۔ ان اسباب میں نمایاں ترین وہ اخلاقی اوصاف ہیں جس کا ثبوت وہ تقریباً ڈیڑھ سو سال سے دے رہے ہیں۔
۱- صنعتی کامیابی کی یہ کہانی گجرات کے ایک پارسی جمشید جی نوشیرواں جی ٹاٹا سے شروع ہوتی ہے۔ انھوں نے ۱۸۶۸ میں بمبئی میں ۲۱ ہزار روپیہ کی لاگت سے اسٹیل کا ایک کارخانہ ٹاٹا پلانٹ کے نام سے قائم کیا۔ یہ ابتدا ترقی کرتے کرتے آج ایک انڈسٹریل ایمپائر بن چکی ہے۔ مگر ٹاٹا گروپ پورے استقلال اور اتحاد کے ساتھ اپنی مہم میں لگا ہوا ہے۔ کوئی بھی چیز اس کے استقلال اور اتحاد کو توڑنے والی نہ بن سکی۔ ۲- جمشید جی کے بعد ان کے صاحبزادے جہانگیر رتن جی دادا بھائی ٹاٹا (JRD Tata) نے اس کاروبار کو بہت زیادہ ترقی دی ہے۔ ان کو بجاطور پر عظیم بصیرت والا انسان (great visionary) کہا جاتا ہے۔ ان کی بصیرت اور دور اندیشی کا ایک ثبوت یہ ہے کہ انھوں نے سب سے پہلے ہندوستان میں ہوابازی کی اہمیت کو سمجھا۔ وہ پہلے ہندوستانی پائلٹ ہیں جن کو مارچ ۱۹۲۹ میں ہوائی جہاز چلانے کا لائسنس دیا گیا۔ انھوں نے ۱۹۳۲ میں پہلی ہوائی کمپنی ٹاٹا ایرویز کے نام سے قائم کی۔ ۱۹۴۸ میں ہندوستانی حکومت نے اس کو اپنے قبضہ میں لے لیا اور اس کا نام ایر انڈیا رکھ دیا گیا۔ ۳- جے آر ڈی ٹاٹا (۱۹۰۴) غیر معمولی وسعت ظرف کے مالک ہیں۔ ۱۹۳۰ میں آغا خاں نے اعلان کیا کہ انگلینڈ اور انڈیا کے درمیان جو شخص سب سے کم وقت میں جہاز اڑا کر لے جائے گا اس کو وہ بہت بڑا انعام دیں گے۔ اس پر جے آر ڈی ٹاٹا نے کراچی سے اپنا جہاز اڑایا۔ ایک اور شخص لندن سے روانہ ہوا۔ درمیان میں دونوں تیل لینے کے لیے قاہرہ میں اترے۔
اس وقت ٹاٹا کو معلوم ہوا کہ ان کے حریف کو ایک پرزہ کی ضرورت پیش آگئی ہے۔ اس کو اس وقت تک قاہرہ ایر پورٹ پر انتظار کرنا پڑے گا جب تک انگلینڈ سے وہ پرزہ نہ آجائے ٹاٹا کے لیے یہ سنہری موقع تھا کہ وہ بلا مقابلہ کامیابی حاصل کر لیں۔ مگر انھوں نے وسعت ظرف سے کام لیتے ہوئے
‹ Previous page Next page › Contents of August 1992 All issues