Al-Risala · August 1992 · page 25

امر بالمعروف، نہی عن المنکر

الرسالہ، اگست ۱۹۹۲، صفحہ ۲۵

وہ پرزہ اپنے پاس سے اپنے حریف کو دے دیا۔ اس فیاضی کا نتیجہ یہ ہوا کہ ان کا حریف مقابلہ جیت گیا۔ مگر ٹاٹا نے کبھی اس کے بارہ میں کسی قسم کے ملال کا اظہار نہیں کیا۔ ۴۔ انسانی احترام کے بارہ میں جے آر ڈی ٹاٹابے حد حساس ہیں۔ اختیارات کے باوجود وہ اپنی رائے دوسروں کے اوپر نہیں تھوپتے۔ بلکہ ہمیشہ دوسروں کو متاثر کرنے کا طریقہ (persuasion therapy) استعمال کرتے ہیں۔ ایک بار ان کی کمپنی کے ایک ڈائرکٹر نے ایک لفٹ پر یہ نوٹس لگا دی کہ اس لفٹ کو صرف ڈائرکٹر حضرات ہی استعمال کر سکتے ہیں۔ ٹاٹا کو معلوم ہوا تو وہ تیزی سے مذکورہ مقام پر پہنچے اور خود اپنے ہاتھ سے اس نوٹس کو پھاڑ کر پھینک دیا (ہندوستان ٹائمس ۳ فروری (۱۹۹۲)

اس دنیا میں کامیابی کا راز، ایک لفظ میں ، با اصول ہونا ہے۔ یہاں اصول کے مطابق زندگی گزارنے والا آدمی کامیاب ہوتا ہے اور اصول سے انحراف کرنے والا آدمی ناکام۔ اصول کیا ہے۔ اصول در اصل حقائق سے مطابقت کرنے کا دوسرا نام ہے۔ حقائق اگر استقلال کا تقاضا کریں تو آدمی غیر مستقل مزاجی کے ساتھ یہاں کامیاب نہیں ہو سکتا۔ حقائق اگر دور اندیش آدمی کا ساتھ دیتے ہوں تو دور اندیشی کے خلاف رویہ کا ثبوت دینے کر یہاں کامیابی کا حصول ممکن نہیں۔ حقائق کا مطالبہ اگر یہ ہو کہ لوگوں کے مزاج کی رعایت کی جائے تو یہ نا ممکن ہے کہ ایک شخص لوگوں کے مزاج کے خلاف چلے اور اس کے باوجود وہ کامیاب ہو۔

نیز یہ کہ اصول کو مفادات سے بلند ہو کر اختیار کرنا چاہیے۔ اگر ایک شخص ایسا کرے کہ جہاں بظاہر فائدہ نظر آئے وہاں وہ اصول پسند بن جائے اور جہاں فائدہ دکھائی نہ دے وہاں وہ اصول کو چھوڑ دے تو ایسے شخص کو با اصول نہیں کہا جا سکتا۔

جو شخص اصول کو مفادات کے تابع رکھے وہ اس دنیا میں چھوٹی کامیابی تو حاصل کر سکتا ہے۔ مگر یہاں بڑی کامیابی صرف اس انسان کے لیے مقدر ہے جو اصول کو اصول کے لیے اختیار کرے، جو مفادات کی پروا کیے بغیر اصول پر قائم رہنے والا ہو۔

‹ Previous page Next page › Contents of August 1992 All issues

Printed page