Al-Risala · August 1992 · page 27

ایک پیغام

الرسالہ، اگست ۱۹۹۲، صفحہ ۲۷

وزیر اعظم نے کہا کہ دستور ہند کے باہر تو اس مسئلہ پر کوئی گفتگو نہیں کی جاسکتی۔ مگر دستور ہند کے دائرہ میں رہتے ہوئے اس کے حل کی کئی صورتیں قابلِ عمل ہیں۔ جب کوئی شخص آزادی کا لفظ بولے اور اس کی مراد یہ ہو کہ وہ دستور ہند کی ماتحتی نہیں چاہتا تو اس وقت ہمارے درمیان کوئی مشترک بنیاد باقی نہیں رہتی۔ البتہ اگر آدمی خیال کرے کہ دستور ہند کے اندر ایسی خود اختیاری کا حصول ممکن ہے جو اس کی آرزوؤں کو پورا کر سکتا ہے تو یہ وہ چیز ہے جس پر ہمیں گفت و شنید کرنا چاہیے۔

ہندوستان ٹائمس (۹ جون ۱۹۹۲) نے اپنے اداریہ میں وزیر اعظم ہند کی اس تجویز کو بجاطور پر نہایت تعمیری تجویز (most concrete) کہا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ حالات کے اعتبار سے یہ کشمیریوں کے لیے "بسٹ پاسبل" کے ہم معنی ہے۔ اور انہیں مزید وقت کھوئے بغیر اس کو اختیار کر لینا چاہیے۔ ان کو چاہیے کہ وہ اٹونومی کی بنیاد پر نئی دہلی سے گفتگو شروع کر دیں۔ وہ دل سے وزیر اعظم کی اس پیشکش کو قبول کر لیں۔

خدا کی اس دنیا میں زندگی کے فیصلے بندوق کے زور پر نہیں ہوتے، بلکہ حقائق کے زور پر ہوتے ہیں۔ اس دنیا میں آدمی کو جو کچھ ملتا ہے، قانونِ حیات کی پیروی کے ذریعہ ملتا ہے۔ یہ قانونِ حیات خود خالق کائنات کا مقرر کیا ہوا ہے۔ اور کون ہے، جو خالقِ کائنات کے نقشہ کے خلاف چل کر اپنے لیے کوئی چیز پا سکے۔

آدمی کو چاہیے کہ وہ اس دنیا میں زیادہ کا مطالبہ کرے مگر وہ کم پر راضی ہو جائے۔ وہ ناممکن کے پیچھے نہ دوڑے بلکہ ممکن کو اپنا نشانہ قرار دے۔ وہ مسائل سے ٹکرانے کے بجائے مواقع کو استعمال کرے ۔ وہ کسی بھی حال میں کسی معاملہ کو وقار کا مسئلہ نہ بنائے۔ وہ تشدد کی قوت سے پرہیز کرے اور ہر حال میں امن کی قوت کو استعمال کرے ۔ وہ آگے بڑھنے کے ساتھ پیچھے ہٹنا بھی جانتا ہو۔ کشمیریوں کو اچھی طرح جان لینا چاہیے کہ موجودہ حالات میں ان کے لیے انتخاب ہندوستانی کشمیر اور غیر ہندوستانی کشمیر میں نہیں ہے۔ بلکہ ہندوستانی کشمیر اور برباد کشمیر میں ہے۔ پچھلے تین سال کا تجربہ اس حقیقت کو کامل طور پر ثابت کر چکا ہے۔ اب آخری طور پر وہ وقت آگیا ہے کہ کشمیری اپنے رویہ پر نظرثانی کریں۔ وہ دوڑتے ہوئے وقت کو مزید ایک لمحہ کے لیے بھی ضائع نہ کریں۔

‹ Previous page Next page › Contents of August 1992 All issues

Printed page