ناکامی میں کامیابی
الرسالہ، جنوری ۱۹۹۲، صفحہ ۳۹
اگر ایک میدان میں آپ کو مواقع نہ ملیں تو دوسرے میدان میں محنت شروع کر دیجئے ۔ عین ممکن ہے کہ آپ دوسرے میدان میں وہ سب کچھ پالیں جس کی امید آپ پہلے میدان میں کیے ہوئے تھے ۔ ڈاکٹر سالم علی (۱۸۹۶–۱۹۸۷) کو علم طیور (Ornithology) میں غیر معمولی مقام ملا۔ ہندوستان نے ان کو پدما بھوشن کا خطاب دیا۔ برطانیہ نے ان کو گولڈ میڈل نوازا۔ ہالینڈ نے ان کو گولڈن آرک عطا کیا۔ عالمی ادارہ وائلڈ لائف نے ان کو انعام کے طور پر ۵۰ ہزار ڈالر دیے۔ ۔ ہندوستان کی تین یونیورسٹیوں نے اعزازی طور پر ان کو ڈاکٹریٹ کی ڈگری عطا کی۔ وہ راجیہ سبھا کے ممبر بنائے گیے وغیرہ۔ ڈاکٹر سالم علی کو یہ غیر معمولی کامیابی ایک غیر معمولی ناکامی کے ذریعہ حاصل ہوئی ۔ وہ بمبئی کے ایک گنجان علاقہ کھیت واڑی میں پیدا ہوئے ۔ بی اے تک تعلیم حاصل کرنے کے بعد انھیں روزگار کی ضرورت ہوئی۔ مگر جب وہ روزگار کی تلاش میں نکلے تو ان کے الفاظ میں " ہر ادارے سے اور ہر دفتر میں ان کے لیے جگہ نہیں (No vacancy) کا بورڈ لگا ہوا تھا" اس ناکامی نے ان کے لیے نئی کامیابی کے راستے کھول دیئے ۔
ایک روز انھوں نے ایک چھوٹی چڑیا پکڑی ۔ اس کو دیکھا تو اس میں ایک غیر معمولی خصوصیت نظر آئی ۔ اس کی گردن پیلے رنگ کی تھی ۔ انھوں نے اس کی تحقیق شروع کر دی ۔ انھوں نے علم طیور کے موضوع پر بہت سی کتابیں پڑھ ڈالیں ۔ ان کی دل چسپی بڑھتی گئی ۔ یہاں تک کہ انھوں نے ایک دستی دوربین حاصل کی ۔ اب ان کا کام یہ ہو گیا کہ ادھر اُدھر جا کر چڑیوں کا مشاہدہ کریں اور ان کے حالات اپنی ڈائری میں لکھیں ۔ آخر کار انھوں نے علم طیور میں اتنی مہارت پیدا کی کہ خود اس فن کو نئی جہتوں اور نئی وسعتوں سے آشنا کیا ۔ ان کی دو کتابیں بہت مشہور ہیں ۔ ایک کتاب میں انھوں نے برصغیر ہند کی ۱۲۰۰ چڑیوں کے حالات لکھے ہیں ۔ ان کی دوسری کتاب طیورِ ہند (Indian Birds) ہے جو گیارہ بار چھپ چکی ہے ۔ اور عالمی سطح پر پڑھی جاتی ہے ۔
ڈاکٹر سالم علی کو زمینی ادارہ میں جگہ نہیں ملی تھی، انھوں نے آسمانی مشاہدہ میں اپنے لیے زیادہ بہتر کام تلاش کر لیا ۔ ان کو ملکی ملازمت میں نہیں لیا گیا تھا ، مگر اپنی اعلیٰ کار کردگی کے ذریعہ وہ عالمی اعزاز کے مستحق قرار پائے ۔
‹ Previous page Next page › Contents of January 1992 All issues