تجربہ کی زبان سے
الرسالہ، اگست ۱۹۹۲، صفحہ ۲۹
تجربہ کی زبان سے
ایک پاکستانی مسلمان اپنے ہندوستانی عزیزوں سے ملنے کے لئے ہندوستان آتے رہتے ہیں۔ ان کا ہندوستان کا پتہ یہ ہے: آغا غیاث الرحمن انجم ، جان سنٹر کارپٹ مینو فیکچررز ، کمرشل اسٹریٹ، بنگلور۔ موصوف کا تفصیلی خط ہمیں موصول ہوا ہے۔ اس میں انھوں نے اپنا تین واقعہ درج کیا ہے۔ ان کے خط کا ابتدائی حصہ خود انہی کے اپنے الفاظ میں نقل کیا جاتا ہے۔
میرا تعلق پاکستان سے ہے۔ اپنے عزیزوں سے ملنے میں اکثر بنگلور آتا رہتا ہوں۔ اب کے بار انڈیا آیا تو الرسالہ کا شمارہ جنوری ۱۹۹۲ء دیکھنے کا اتفاق ہوا۔ اس میں ایک واقعہ افضل صاحب کا "خون کے بہائے پانی" کے عنوان سے پڑھا تو میرے ذہن میں انڈیا کے تعلق سے تین ذاتی واقعات آگئے جو اختصار کے ساتھ سپرد قلم کر رہا ہوں۔ ان واقعات سے میرا یہ یقین پختہ ہو گیا ہے کہ دل میں اگر تنگی اور نفرت کے بجائے دوسروں کے لئے محبت اور کشادگی ہو۔ رویے میں سختی کے بجائے نرمی اور زبان پر تلخی کے بجائے مٹھاس ہو تو پوری دنیا امن و آشتی سے مالا مال ہو سکتی ہے۔ پہلا واقعہ ۱۹۸۲ء میں پیش آیا۔ میں، میری بیوی، بیٹی اور نو عمر بیٹا بذریعہ ٹرین دہلی سے بنگلور جا رہے تھے۔ جس بوگی میں ہمیں جگہ ملی وہ چھوٹی سی تھی۔ اور اس میں تقریباً پندرہ مسافر اور تھے جن کا تعلق بھارت اور ہندومت کے ساتھ تھا۔ ان میں زیادہ تر نوجوان تھے جو بنگلور کے کسی تعلیمی ادارے میں تعلیم حاصل کر رہے تھے۔ اور چھٹیاں گزارنے کے بعد واپس جا رہے تھے۔ ہماری روایتی سادگی اور بے تکلفی کے سبب یہ نوجوان بہت جلد ہم سے گھل مل گئے۔ میری داڑھی اور میرے پریوار کی نمازوں کی پابندی دیکھ کر ہمارے بارے میں ان کا تاثر یہ تھا کہ ہم مذہبی گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں۔ لہذا ادھر اُدھر کی باتوں کے علاوہ دنیا کے موسم و حالات اور علاقائی سیاست سے چلتے چلتے مذہبی معاملات پر بھی ہونے لگی۔ ان میں ایک ہندو نوجوان بات کرنے میں پیش پیش تھا۔ اس کی گفتگو سے معلوم ہو رہا تھا کہ ذہین نوجوان ہے اور اپنے مذہب کے بارے میں وسیع معلومات رکھتا ہے۔ بہت سے سوالات اور جوابات کے بعد مذکورہ نوجوان نے ایک ایسا سوال کیا جس کے جواب پر بوگی کی پوری فضا یکسر بدل گئی۔ ایسا محسوس ہونے لگا جیسے ہم سب مختلف نہیں بلکہ ایک ہی برادری سے تعلق رکھتے ہیں۔ اور ہمارے
‹ Previous page Next page › Contents of August 1992 All issues