تجربہ کی زبان سے
الرسالہ، اگست ۱۹۹۲، صفحہ ۳۰
یہاں دوری اور دودی نام کی کوئی شے نہیں ہے۔
سوال یہ تھا کہ ہمارے کرشن جی مہاراج کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟ ‘ میں نے جواب دیا کہ میں آپ کو ایک اصول بتاتا ہوں۔ قرآن مجید اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے مطابق ’کسی مسلمان کو نہ حق ہے اور نہ اجازت ہے کہ وہ کسی مذہب کے پیشواؤں اور بت آندروں کو بُرا بھلا کہیں‘۔ بلکہ حکم ہے کہ ہم ہر عقیدے اور دھرم کے پیشواؤں کا اندر بزرگوں کا احترام کریں۔ لہٰذا اس قانون کی رو سے ہم اس بات کے پابند ہیں کہ شری کرشن جی مہاراج اور دیگر مذاہب کے تمام پیشواؤں کا احترام کریں اور ان کی تعظیم کریں“۔
یہ سننا تھا کہ نوجوان نے میرا ہاتھ پکڑ لیا اور کہا:
”اگر دنیا کے تمام مذہبی لوگ ایسے ہو جائیں جیسے آپ ہیں تو یہ لڑائی جھگڑے، قتل و غارت گری اور آئے دن کے فسادات ہمیشہ کے لئے ختم ہو جائیں“۔
میں نے موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے کہا۔ اگر یہ بات ہے تو آپ سب میرے ساتھ وعدہ کریں کہ تم اپنی پوری زندگی میں لوگوں کے دلوں سے کدورتیں اور دشمنیاں مٹاؤگے۔ اور ان کے دلوں میں باہمی صلح و محبت اور افہام و تفہیم کے بیج بوؤگے۔ تمام نوجوانوں نے میرے ساتھ وعدہ کیا۔ اس طویل سفر کے دوران ساری گفتگو کا ایک نتیجہ یہ بھی نکلا کہ ہم کو بنگلور کینٹ کے اسٹیشن پر اترنا تھا اور ان کو بنگلور سٹی کے اسٹیشن پر۔ لہٰذا ہماری منزل پہلے آگئی۔ جوں ہی گاڑی اسٹیشن پر رکی تو ان نوجوانوں نے نہ تو کسی قلی کو ہمارے سامان کے قریب آنے دیا۔ اور نہ ہمیں ہمارے سامان کو ہاتھ لگانے دیا۔ بلکہ ہر نوجوان نے آگے بڑھ کر از خود قلیوں کی طرح ہمارا سامان اپنے ہاتھوں اور کندھوں پر اٹھایا۔ اور آن واحد میں پورا سامان پلیٹ فارم پر ڈھیر کر دیا۔ اور جب گاڑی چل پڑی تو ایک ایک نوجوان نے ہم کو سلام کیا، معانقہ کیا، ہمارے عزیزوں کے ساتھ ہاتھ ملایا۔ اپنے ہاتھوں کو ہلاتے ہوئے گاڑی پر سوار ہوئے۔ اور اس سفر کی خوشگوار یادیں ہمارے دلوں میں چھوڑ کر جانب منزل روانہ ہوگئے۔
‹ Previous page Next page › Contents of August 1992 All issues